کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 494
جنت کا مستحق قرار پاتا ہے۔ رہا مخالفین [غیر یہودیوں ]کے اموال کومباح سمجھنا ؛ تو اس پر بھی ان کے مقدس اسفار اور کتاب تلمود کی بہت ساری نصوص دلالت کرتی ہیں۔ سفر خروج میں آیا ہے: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے انہیں مصر سے نکلنے سے پہلے حکم دیا تھا کہ وہ مصریوں کے زیورات چھین لیں۔‘‘ اس حکم کی عبارت [نص] یوں ہے : ’’ میں مصریوں کی نظروں میں اس قوم کو نعمت دوں گا، پھر ایسے ہوگا جب تم جاؤگے،تو ایسے ہی خالی ہاتھ نہیں جاؤ گے، بلکہ ہر عورت اپنی پڑوسن سے، اور اپنے گھر میں آئی ہوئی مہمان سے چاندی کا سامان ؛اورسونے کا سامان[زیور] اور کپڑے مانگے گی؛ جنہیں تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں پر لادوگے ؛ اور مصریوں سے چھین لو گے۔‘‘[1] جب کہ تلمود میں یوں آیا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو باقی امتوں کے خون اور مال پر مسلط کردیا ہے۔‘‘[2] اور تلمود میں یہ بھی آیا ہے : ’’ انسانوں (یعنی یہودیوں ) کی چوری کرنا جائز نہیں ہے، رہے یہودی دین سے باہر کے لوگ تو ان کی چوری کرنا جائز ہے۔‘‘[3] ایک دوسری جگہ پر یوں آیا ہے : ’’غیر یہودی کی زندگی بھی یہودی کی ملکیت ہے،تو پھر اس کے مال کا کیا ہے۔‘‘[4] تلمود یہودیوں کو منع کرتی ہے کہ ’’جو مال کسی یہودی کے ہاتھ لگ جائے وہ اس کے حقدار کو واپس کیا جائے۔ جو کوئی ایسا کر ے گا [یعنی مال واپس کرے گا ] وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے گنہگار ہو گا۔‘‘ ان کے ایک درویش [حبر] سے روایت میں آیا ہے : ’’جو کوئی غیر یہودی کو اس کا گمشدہ مال واپس کرے گا اللہ تعالیٰ کبھی بھی اس کی مغفرت نہیں کرے گا۔‘‘[5] اور ایک دوسرے مقام پر یہ حکم آیا ہے : ’’تمہارے لیے ممنوع ہے کہ غیر یہودی کا گمشدہ مال اسے واپس کردو، اگر تم نے پالیا ہو۔‘‘[6] [1] کاتب ان سات قوموں کی طرف اشارہ کررہا ہے جن کا ذکر تورات میں آیا ہے۔ اورجن کے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم سفر تثنیہ کی اصحاح ۷ کے فقرات میں ہے۔ [2] الکنز المرصود ص : ۸۵۔ [3] المصدر السابق ص: ۸۶۔ [4] خطر الیہودیۃ العالمیۃ علی الإسلام و المسیحیۃ ص: ۸۰۔