کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 492
ان کے اسفار انہیں ایسے تمام مردوں کے قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں اورہر دور کے شہر سے عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے کا، جن شہروں کو یہ فتح کریں گے۔جب کہ ان کے قریبی شہروں کے بارے میں گمان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عطا کیے ہیں ؛ وہ اس میں ہر ایک کو قتل کریں گے، کسی ایک جی کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ ایسے ہی تلمود بھی یہودیوں کے لیے ان کے مخالفین کوقتل کرنا ؛ اوران کے خون کو مباح قرار دیا گیا ہے۔تلمود کا ایک کاتب کہتا ہے : ’’ حتی کہ غیر ِ یہودی کے افضل ترین انسان کو قتل کرنا بھی واجب ہے۔‘‘[1] ایالکوٹ سیمونی (تلمود کا ایک عالم ) کہتا ہے : ’’ ہر وہ شخص جو کہ غیر یہودی کا خون بہاتا ہے ؛ اس کا عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں [ایسے ہی ]مقبول ہے، جیسے کہ اس کے لیے قربانی پیش کی جاتی ہے۔‘‘[2] تلمود میں یہ بھی ہے : ’’ غیر ِ یہودی کے نیک انسان کو بھی قتل کردو۔ اور یہودی پر حرام ہے کہ وہ کسی غیر یہودی کو ہلاکت سے بچائے۔ یا اسے اس گڑھے سے نکالے جس میں وہ گر پڑا ہے بلکہ اس پر واجب ہے کہ وہ پتھر ڈال کر اس گڑھے کو پاٹ دے۔‘‘[3] آج کل کے معاصر یہودی بھی اس عقیدہ میں اپنے اسلاف کے ساتھ شریک ہیں، یہودی تعلیمات کے سپیشلسٹ جرمنی کا ڈاکٹر ’’أریک بسکوف ‘‘ ایک یہودی کتاب المسمی ’’ ثیکوم زوھار ‘‘ کے متعلق کہتا ہے : ’’بے شک دین کی حکمت اوراس کی وصیتوں میں سے اجنبیوں [غیر یہودی]کو قتل کرنا ہے وہ لوگ جن کے اورحیوانات کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، اس قتل کے لیے ضروری ہے کہ اسے شرعی طریقہ سے پورا کیا جائے۔ اور جو لوگ یہودی دین کی تعلیمات اور یہودی شریعت پر ایمان نہیں رکھتے ؛ اپنے معبود ِ اعظم کے ہاں ان کی قربانی پیش کرنا واجب ہے۔‘‘[4] غیر یہود ی [اجنبی] کو قتل کرنا مباح ہی نہیں،بلکہ یہودیوں کے نزدیک دینی واجب بھی ہے۔ اور ہر یہودی پر واجب ہے کہ وہ جس قدر بھی غیر یہودیوں کو قتل کرنے کی قدرت رکھتا ہو انہیں قتل کردے۔ جو ان کو قتل کرنا ترک کردے گا بے شک وہ حاخاموں کی تعلیمات اور یہودی شریعت کی مخالفت کر ے گا۔ [1] ہمجیۃ التعالیم الصہیونیۃ ص: ۵۵۔ [2] اسرائیل و تلمود ص: ۶۷۔ [3] اصحاح ۲۰؛ فقرات ۱۰-۱۷۔