کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 486
ان آیات میں مخاطب اگرچہ یہودی ہیں، لیکن یہ رافضیوں پر بھی حجت ہیں۔ اورہر اس انسان پر حجت ہیں جو یہودیوں کے دعووں جیسے باطل دعوے کرے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان فاسد عقائد کو باطل ثابت کیا، اوران کی بنیادیں ہی ڈھا دیں ؛اس لیے کہ یہ فقط یہودیوں کا دعویٰ ہی نہیں ہے؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی شریعت اور اس کے اس دین کے مخالف بھی ہے جس کی بنیادیں عدل و انصاف پر کھڑی ہیں نہ کہ تعصب اورجنس کی عنصریت پر۔ پس جو کوئی بھی اس طرح کا دعویٰ کرے گا اس کا حکم یہودیوں کا حکم ہے؛ اس میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ اعتبار عموم لفظ کا ہے، نہ کہ خصوص سبب کا، جیسا کہ اصول کی کتابوں میں طے شدہ ہے۔ اس طرح ہم نے یہودی اور رافضی ہر دو عقائد پررد کیا ہے جس میں ان کی اپنے ذات کی تقدیس اور برتری کے دعوے ہیں۔ اور اس پر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ٹوک اور قطعی دلائل پیش کیے ہیں۔ سو اللہ تعالیٰ کے لیے ہی سب تعریف ہے جس نے یہ توفیق بخشی۔ والحمد للّٰہ!! **** [1] الشخصیۃ الیہودیۃ من خلال القرآن ص: ۱۳۷۔ [2] تفسیر الطبری ۱/ ۳۹۱۔