کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 481
اور امام قحطانی رحمہ اللہ قصیدہ نونیہ میں فرماتے ہیں : ’’ بے شک رافضی ان کنکروں سے بھی برے ہیں جنہیں انسان یا حیوان وجن اپنے پاؤں تلے روندتے ہیں۔‘‘[1] شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’بے شک وہ خواہش پرست فرقوں میں سب سے زیادہ برے ہیں۔‘‘[2] اور یہ بھی فرمایا ہے کہ : ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ بے شک رافضی یہودیوں اور عیسائیوں سے بڑھ کر اپنے دین سے دور ہیں۔‘‘[3] اور رافضیوں نے اپنی کتابوں میں ذکرکیا ہے کہ ان کے اسلاف انہیں یہود و نصاریٰ سے بدتر شمار کرتے ہیں۔ کلینی نے میسر سے روایت کیا ہے : ’’ میں ابو عبد اللہ علیہ السلام پر داخل ہوا، تو انہوں نے پوچھا : تمہارے ساتھی کیسے ہیں ؟ میں نے کہا: میں آپ پر قربان جاؤں ! ہم ان کے نزدیک یہود و نصاریٰ و مجوس اور مشرکین سے بھی بدتر ہیں …‘‘[4] نعمت اللہ الجزائری (بارھویں صدی کا شیعہ عالم) کہتا ہے: یقینا ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے مخالفین کی ایک جماعت ہم پر یہود و نصاریٰ کو ترجیح دیتے ہیں۔ او رجب ہم ان کے ساتھ سفر پر جاتے ہیں، تو وہ ہماری تفتیش کرتے ہیں ؛ اور کفار کا مال تفتیش کے بغیر ایسے ہی چھوڑ دیتے ہیں۔‘‘[5] یہ رافضیوں کی گواہی خود اپنے نفس پر ہے کہ وہ اپنے اسلاف کے ہاں یہود و نصاریٰ سے بدتر سمجھے جاتے تھے۔ اور اللہ کی قسم ! سلف ہماری نسبت ان کو بہت زیادہ اوراچھی طرح جانتے تھے۔ اور ان کے اسلام کے مخالف عقائد کو بھی جانتے تھے اگرایسا نہ ہوتا تووہ ہر گز انہیں اس منزلت کا حق دار نہ سمجھتے۔ [اوران سے ایسا سلوک نہ کرتے ] اس سے معلوم ہوگیا کہ رافضی اللہ کے ہاں اور مومنین کے ہاں سب سے بری مخلوق ہیں۔ چہ جائے کہ وہ تمام مخلوق سے افضل اور اللہ کے پیارے ہوں۔ عمومی طور پر یہودیوں اور رافضیوں کی اپنے نفس کی تقدیس اور باقی تمام مخلوق پر فضلیت کے دعوی کو باطل ثابت کرنے ا ور ان پر رد کرنے کے بعد ؛ میں اب کچھ وہ آیات ذکر کروں گا جن سے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس گمان کو باطل کیا ہے [جس کے مطابق ] ان کا دعویٰ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں امتیازی حیثیت دی ہے، اور لوگوں سے ہٹ کرانہیں بعض امورمیں انہیں خا ص کیاہے۔ [1] فتح القدیر ۲/ ۳۲۱۔ [2] العقد الفرید ۲/ ۲۴۹۔ شرح أصول اعتقاد أہل السنۃ ۴/ ۱۴۶۱۔ منہاج السنۃ ۱/۲۳۔