کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 47
ان میں سے سوائے ایک آدمی عمرو بن امیہ ضمری [1]کے کوئی نہ بچ سکا۔ واپس آتے ہوئے اس نے راستے میں بنو عامر کے دو آمیوں کو قتل کردیا۔ بنو عامر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان عہد و پیمان تھا جس کا علم عمرو بن امیہ کو نہ تھا۔‘‘[2] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو عامر کے ان مقتولوں کی دیت ادا کرنے کے لیے جنہیں عمرو بن امیہ نے قتل کر دیا تھا؛ حسب عہد بنی نضیر کے پاس گئے تاکہ وہ کچھ مدد کریں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے تو وہ کہنے لگے : ٹھیک ہے ابا القاسم ! جیسے آپ چاہتے ہیں، ہم ایسے ہی آپ کی مدد کرتے ہیں۔ پھر وہ ایک جگہ پر علیحدہ جمع ہوئے اور آپس میں کہنے لگے: ’’ تم اس آدمی کواپنی حالت پر کبھی بھی نہ پاؤ گے ؛ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھروں کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے۔ تم میں کون آدمی ایسا ہے جو اس گھر کی چھت پر چڑھ جائے اور وہاں سے یہ چٹان گرادے، اوراس آدمی(محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے ہمیں نجات دلادے؟۔ عمرو بن جحاش بن کعب اس کام کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔اور کہا : یہ کام میرے ذمہ ہے ؛ اور وہ گھرکی چھت پر چڑھ گیاتاکہ آپ پر چکی گرا سکے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر اپنے کچھ صحابہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ؛ جن میں ابو بکر و عمر اور علی بھی تھے - رضی اللہ عنہم - رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آسمانوں سے ان کے ارادوں کی بابت خبر آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور مدینہ کی طرف واپس چل دیے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے میں دیر محسوس کی تو وہ بھی اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاش میں چل پڑے۔ راستہ میں مدینہ سے آتے ہوئے ایک آدمی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ : ’’ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ میں (شہر کے اندر) دیکھا ہے۔ ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیدھا رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہودی سازش و غداری کی خبر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ جنگ کے لیے تیاری کی اور کوچ کرنے کا حکم جاری فرمایا۔[3] مدینہ کا نظام عبد اللہ بن ام مکتوم کے سپرد کیا پھر لوگوں کو لے کر نکلے۔ یہ واقعہ ربیع الاول کا ہے۔ یہودی قلعہ بند ہوگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (قلعوں اور حصار کے درمیان حائل ) کھجوریں کاٹنے اور جلانے کا حکم دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہلا بھیجا کہ ہمیں جانوں کی [1] عمرو بن امیہ بن خویلد بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں ؛ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں انتقال ہوا۔ تقریب التہذیب ، ص۴۱۸۔ [2] انظر : ابن ہشام : السیرۃ النبویۃ ۳/۹۸۷۔ [3] انظر : ابن کثیر : السیرۃ النبویۃ ۳/۱۴۵-۱۴۶۔