کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 469
گی؛ اورتیری ہڈیوں کو توڑدے گی۔ اس نے اپنے آپ کو آگ لگائی۔ اوراس آدمی پر سفید صوف کا کپڑاتھا ؛ نہ ہی اسے آگ لگی اور نہ ہی دھواں اس کے قریب ہوا۔‘‘[1] جب کہ رافضی جنت کے بارے میں ایمان رکھتے ہیں کہ وہ صرف اور صرف ان کے لیے ہی پیدا کی گئی ہے اوروہ بغیر حساب کے اس جنت میں داخل ہوں گے۔ فرات الکوفی نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے،آپ نے فرمایا: ’’ آسمانوں میں رب العزت کی طرف سے ایک منادی کرنے والا آواز لگائے گا : اے علی! تم اور تمہارے شیعہ جنت میں داخل ہوجاؤ ؛ تم پر اور تمہارے شیعہ پرکوئی حساب و کتاب نہیں ہے۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے ؛ اور اس کی نعمتیں پائیں گے۔‘‘[2] نیز ابو عبد اللہ علیہ السلام سے مروی ہے آپ نے کہا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ ہمارے شیعہ کے لیے دنیا اور آخرت جمع کردے گا۔ اللہ انہیں جنت کی نعمتوں میں داخل کرے گا،اور ہمارے دشمنوں کو جہنم کی آگ میں داخل کرے گا۔‘‘[3] اور شیعوں کا جنت میں داخل ہونا اعمال کے حساب سے نہیں ہے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ وہ شیعوں میں سے ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ شیعہ مذہب کے فرمانبردار اور نافرمان [نیک اور بد]سب جنت میں داخل ہوں گے۔ بحرانی نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ’’ میں تمہیں خوشخبری دینے کے لیے آیا ہوں، جان لے ابھی ابھی مجھ پر جبرئیل نازل ہوئے؛ اور کہا : اللہ تعالیٰ آپ کوسلام کہتے ہیں : اور کہتے ہیں : علی کو خوشخبری سنا دو کہ اس کے شیعہ میں سے نافرمان اور فرمانبر دار [سب] جنت میں داخل ہوں گے۔ جب انہوں نے یہ فرمان سنا تو سجدے میں گرگئے۔اور اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے۔ پھر فرمایا: میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اپنی آدھی نیکیاں اپنے شیعوں کو ہبہ کردیتا ہوں ؛ یہ سن کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں : میں اللہ کو گواہ بناتی ہوں کہ میں نے اپنی آدھی نیکیاں شیعوں کو ہبہ کردیں۔ اورپھر حضرت حسن نے بھی ان دونوں کی طرح کہا، پھر حسین نے بھی ایسے ہی کہا ؛ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: تم مجھ سے زیادہ اہل کرم نہیں ہو، اے رب ! میرا گواہ ہوجا ! میں نے علی کے شیعہ کو اپنی آدھی نیکیاں ہبہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے کہا : تم مجھ سے زیادہ اہل ِکرم [مہربانی کرنے والے] نہیں ہو، میں نے علی کے شیعہ اور اس سے محبت کرنے والو ں کے تمام گناہ معاف کردیے۔‘‘[4] [1] تفسیر الصافی ۱/ ۱۱۳۔