کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 463
رافضیوں کے اپنی ذات کے متعلق یہ نظریہ ہے۔ اس روایت میں جو کچھ مبالغہ آمیزی آئی ہے،وہ توان روایات کا صرف ایک حصہ ہے جن سے حسد و بغض پھوٹ رہا ہے ؛جن سے ان کی کتابیں بھری پڑی ہیں۔ رافضی آگے بڑھتے ہوئے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بول کر لوگوں کوباقی تمام عوام پر اپنے شرف اور فضیلت کا وہم دلانا چاہتے ہیں۔ وہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو صرف اور صرف ان کے لیے ہی پیدا کیا ہے، اور جو کچھ بھی اس دنیا میں ہے وہ ان کی ملکیت ہے جس میں کسی اور کا کوئی حصہ نہیں۔ اس سے پہلے امام باقر کی طرف منسوب روایت گزر چکی ہے، جس میں ہے : ’’اور اللہ کی قسم ! اگر زمین میں تم نہ ہوتے تو [زمین پر ] آنکھوں سے سبزہ نہ دیکھا جاتا اور اللہ کی قسم ! اگر زمین میں تم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہارے مخالفین پر انعام نہ کرتے؛ اور نہ ہی انہیں کوئی پاکیزہ چیز ملتی …۔‘‘ فرات الکوفی نے[اپنی تفسیرمیں ] روایت کیا ہے ؛ بے شک نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ’’اے علی! تیرے شیعہ شریف النسل لوگ ہیں اور اگر تم اور تمہارے شیعہ نہ ہوتے تو اللہ کا دین قائم نہ ہوتا اور اگر زمین میں ان میں سے کوئی نہ ہوتا تو آسمانی پانی کا قطرہ نہ برساتا۔‘‘[1] زمین ساری کی ساری ائمہ کی ملکیت ہے جو انہوں نے شیعہ کو عطا کی ہوئی ہے۔ اور ان کے علاوہ باقی لوگوں پر یہ حرام ہے۔ کافی میں مسمع بن عبدا لملک سے روایت ہے، ابو عبد اللہ علیہ السلام نے فرمایاہے : ’’بے شک ساری زمین ہماری ملکیت ہے، اور اس سے جو بھی چیز نکلے گی وہ ہمارے لیے ہوگی۔ میں نے ان سے کہا : ’’ تو[کیا ]میں آپ کی طرف تمام مال اٹھا لاؤں ؟تو آپ نے فرمایا: اے ابو سیار ! ہم نے اسے تمہارے لیے پاکیزہ کردیا،اورتیرے لیے حلال کردیا ؛ پس اسے اپنے مال کے ساتھ ملا لو۔‘‘ اورہر وہ چیز جو ہمارے شیعہ کے ہاتھوں میں ہے، وہ ان کے لیے حلال ہے۔ یہاں تک کہ امام قائم آجائے ؛ اور وہ ان سے ان کی املاک پر جزیہ وصول کرے۔ اور زمین ان ہی کے ہاتھوں میں چھوڑ دے۔ رہی وہ متاع جو غیروں کے ہاتھوں میں ہے ؛ بے شک اس پر زمین میں کسب کرنا ان پر حرام ہے ؛ یہاں تک کہ ہمارا امام قائم آجائے۔ وہ ان کے ہاتھوں سے زمین لے لے اورانہیں رسوا کرکے اس سے نکال دے۔‘‘[2] یہودیوں کے جھوٹے خیالات میں ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ شیعہ کے علاوہ باقی تمام لوگوں پر ناراض ہے۔ صدوق نے فضائل الشیعہ میں ایک لمبی حدیث نقل کی ہے، جسے وہ جھوٹ بولتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ؛ اس روایت میں ہے: [1] روضۃ الکافی ۸/ ۲۱۲-۲۱۳۔ یہ روایت عبارت میں تھوڑے اختلاف کے ساتھ کئی کتابوں میں آئی ہے۔ دیکھو: تفسیر فرات الکوفي ص: ۲۰۸-۲۰۹۔ صفات الشیعۃ و فضائل الشیعۃ ص: ۸-۱۰۔ أمالی للصدوق ص: ۵۰۰-۵۰۱۔ بحار الأنوار ۶۸/ ۴۳-۴۴۔