کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 453
کے سبب تمہیں عذاب کیوں دیتا ہے؟ (نہیں ) بلکہ تم اُس کی مخلوقات میں (دوسروں کی طرح کے) انسان ہو وہ جسے چاہے بخشے اور جسے چاہے عذاب دے اور آسمان اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب پر اللہ ہی کی حکومت ہے اور (سب کو) اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘ یہودیوں سے اللہ تعالیٰ کی محبت کے اس بودے دعویٰ کے مقابل یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ باقی جتنی بھی دوسری امتیں ہیں،ان پر اللہ تعالیٰ ناراض اور غضبناک ہو ا۔ سفر اشعیا میں ہے: اے امتو ! قریب ہوجاؤ تاکہ تم سن سکو۔ اور اے قومو! کان لگا کر سنو؛ اور چاہیے کہ زمین بھی سنے اوراس کے تمام رہنے والے بھی۔ اور اس کے تمام پیدا ہونے والے ؛ اس لیے کہ تمام امتوں پر رب کی ناراضگی ہے۔ ان کے تمام لشکروں پر تنور گرم کیے گئے ہیں ؛ اور ان کا ذبح کے لیے لے جانا ان پر حرام کیا ہے، پس ان کے مقتولین ایسے مردار پھینکے جائیں گے، اور ان سے بدبو اٹھتی رہے گی ؛ اور پہاڑان کا خون بہاتے رہیں گے۔‘‘[1] سفر تثنیہ میں بنی اسرائیل کے لیے اللہ تعالیٰ کی وصیتوں (بزعم خویش) کے ضمن میں یوں آیا ہے : ’’اور جب تمہارا معبود رب تمہیں اس سر زمین پر لے آئے جس میں تم داخل ہونے والے ہو، تاکہ تم اسے اپنی ملکیت بناؤ اور وہاں رہنے والی بہت ساری قوموں کو اپنے سامنے سے نکال دو۔سات قومیں جو تم سے زیادہ اور تم سے بڑی ہیں۔ انہیں تمہارے معبود رب نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے اورتم نے انہیں مارا ہے، بے شک تم انہیں محروم کروگے۔ ان کے ساتھ کوئی عہد نہ کرنا ؛ اور نہ ہی ان پر کوئی شفقت کرنا۔‘‘[2] سو اللہ تعالیٰ تمام قوموں پر ناراض ہوا،اورانہیں بنی اسرائیل کے حوالے کیا تاکہ وہ انہیں مختلف قسم کے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں۔ اور ساتھ ان پر ترس کھانے سے اور مہربانی کرنے سے بھی منع کردیا۔ نیز اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہودی جنس کے علاوہ کسی بھی دوسری جنس کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان کے ساتھ داخل ہو۔ یہ ان کے اس سابقہ عقیدہ کی بنیاد پر ہے کہ ان کا عنصر اللہ تعالیٰ کے عنصر سے ہے۔ اور ان کی روحیں بھی اس سے نکلی ہوئی ہیں۔ (معاذ اللہ ) سفر تثنیہ میں آیا ہے: ’’خصی اور خنثی رب کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا؛اورولدِزنارب کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ دسویں نسل آنے تک ان میں سے کوئی ایک بھی رب کی جماعت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ اور عمونی[3] اور [1] اصحاح ۱۱؛ فقرہ ۱۔ [2] اصحاح ۶۳: فقرہ ۱۶۔ [3] فضح التلمود ص: ۹۷۔ [4] اسرائیل و تلمود ص: ۶۷۔ [5] سفر الملوک الأول ، اصحاح ۱۰؛ فقرہ ۹۔