کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 447
﴿وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدَاۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہُ ﴾ (الکہف:۲۸) ’’اور جو لوگ صبح و شام اپنے رب کو پکارتے اور اُس کی خوشنودی کے طالب ہیں اُن کے ساتھ صبر کرتے رہو۔‘‘ یہ عظیم الشان تعریف و ثنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے لیے ہے۔ اور اس بات کی خبر ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگیا ہے،اوروہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ اور یہ گواہی ہے کہ صحابہ عابد اور زاہد لوگ ہیں جب کبھی بھی کوئی انسان انہیں دیکھے گا تو انہیں رکوع یا سجدہ میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے متلاشی پائے گا۔ پس اللہ تعالیٰ کی صفائی سے بڑھ کر کون سی صفائی ہوگی۔ اور کون سی رسوائی ان لوگوں کے بغض ؛ ان کی شان میں گستاخی اور ان پر لعنت کرنے سے بڑھ کر ہوگی جن پر اللہ راضی ہوگیا ہے، اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے ہیں۔ احادیث میں فضائل صحابہ رضی اللہ عنہم اور ان پر سب و شتم کی حرمت: (( لا تسبوا أصحابی ؛ فوالذي نفس محمد بیدہ لو أنفق أحدکم مثل أحدٍ ذَہَبًا ما بلغ مد أحدہم و لا نصیفہ۔)) [1] ’’ میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی ایک احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے گا وہ ان کی ایک مٹھی یا آدھی مٹھی کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔‘‘ امام حاکم رحمہ اللہ نے اپنی مستدرک میں عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، بے شک رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا، اور میرے لیے میرے صحابہ کو چن لیا، پھر ان میں سے میرے لیے وزیر، انصار اور سسرال بنائے۔ پس جو کوئی ان کو گالی دے،اس پر اللہ کی لعنت ہو،اور فرشتوں کی، او رتمام لوگوں کی، قیامت کے دن اس سے نہ ہی کوئی فرض عبادت قبول کی جائے گی اور نہ ہی نفل عبادت۔‘‘[2] یہ احادیث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے اور ان کی شان میں گستاخی کرنے کے حرام ہونے پر دلالت کرتی ہیں،اور یہ کہ صحابہ پر سب و شتم کرنے والا اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی طرف سے لعنتی ہے۔ مسلم نے ہشام بن عروہ سے ؛ اور انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، وہ فرماتے ہیں : مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ’’ اے میرے بھانجے ! لوگوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے استغفار کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ انہیں گالیاں دینے لگ گئے۔‘‘[3] [1] الصارم المسلول علی شاتم الرسول ص: ۵۷۲۔