کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 44
لوگوں سے دوستی رکھتے ہو حالانکہ وہ تم سے دوستی نہیں رکھتے اور تم سب کتابوں پر ایمان رکھتے ہو (اور وہ تمہاری کتاب کو نہیں مانتے) اور جب تم سے ملتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب الگ ہوتے ہیں تو تم پر غصے کے سبب انگلیاں کاٹ کاٹ کھاتے ہیں۔ (اُن سے) کہہ دو کہ (بدبختو) غصے میں مر جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے۔‘‘ اس آیت نے یہودیوں کے باطن کی گرھیں کھول کر رکھ دیں اوران کے ساتھ رابطوں اور تعلقات کی وجہ سے ملنے والی تکالیف کی بنا پر ان کے بارے میں نرم گوشوں کو ختم کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتنہ برپا کرنے کی کوشش: یہودیوں کی اسلام دشمن سازشوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ فتنہ برپا کرنے، اور آپ پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی ہے۔ ابن ہشام نے ابن اسحق سے نقل کیا ہے، وہ کہتے ہیں : ’’ کعب بن اسد اور ابن صلوبا ؛ عبد اللہ بن صوری اور وشاس بن قیس آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’ ہمیں محمد کے پاس جانا چاہیے ؛ شاید کہ ہم اسے آزمائش میں ڈال سکیں، کیونکہ وہ بشر ہے ؛ (بھول سکتا ہے، اور دھوکا میں آسکتاہے)۔ وہ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ’’ اے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ جانتے ہیں ہم یہودیوں کے بڑے علماء، سردار اور بڑے لوگ ہیں۔ اگر ہم نے آپ کی اطاعت کی تو یہود آپ کی اطاعت کرنے لگیں گے اور وہ ہماری مخالفت نہیں کریں گے۔ بے شک ہمارے اورہماری قوم کے درمیان ایک جھگڑا چل رہا ہے۔ کیا ہم وہ مقدمہ آپ کے پاس فیصلہ کے لیے پیش کریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے خلاف ورہمارے حق میں فیصلہ کردیں ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کریں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا انکار کیا۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں : ﴿وَأَنِ احْکُمْ بَیْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ وَلَا تَتَّبِعْ أَہْوَائَ ہُمْ وَاحْذَرْہُمْ أَنْ یَّفْتِنُوْکَ عَنْ بَعْضِ مَا أَنزَلَ اللّٰہُ إِلَیْکَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمْ أَنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ أَن یُصِیْبَہُم بِبَعْضِ ذُنُوْبِہِمْ وَاِنَّ کَثِیْراً مِّنَ النَّاسِ لَفَاسِقُوْنَo﴾ (المائدہ: ۴۹) ’’اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) اللہ نے نازل فرمایا ہے اُسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو اللہ نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تمہیں بہکا نہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ اللہ چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں۔‘‘[1] [1] انظر :سیرۃ ابن ہشام ۲/۶۰۱۔