کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 439
اللہ تعالیٰ ان [ائمہ اہلِ بیت] پر رحمتیں نازل فرمائے۔ یہ ہمیشہ شیعوں کی مذمت کیا کرتے تھے۔ اوران کے بارے میں غلوکرنے کی وجہ سے کہا کرتے تھے : یہ [رافضی] یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی برے ہیں۔کشی نے ابو عبد اللہ سے روایت کیا ہے :آپ فرماتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں کوئی آیت نازل نہیں فرمائی مگروہ شیعوں کی اختیار کردہ راہ پر صادق آتی ہے۔‘‘[1] اور انہی سے ایک دوسری روایت میں ہے: ’’جو کوئی اس [غلوکی] راہ پر چلتا ہے، وہ یہود، نصاریٰ، مجوس اور مشرکین سے برا ہے۔‘‘[2] اور [امام] زین العابدین [ رحمۃ اللہ علیہ ] ان سے کہا کرتے تھے: ’’ تم کتنے بڑے جھوٹے ہو،اور اللہ تعالیٰ پرکس قدر جراء ت کرنے والے ہو،ہم اپنی قوم کے نیک و کار لوگوں میں سے ہیں۔ اور ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ہم اپنی قوم کے صالحین میں سے ہیں۔‘‘[3] اورآپ ان سے یہ بھی کہا کرتے تھے : ’’ اے لوگو ! ہم سے اسلام کے [اصولوں کے ] مطابق محبت کرو، تمہاری یہ محبت ایسے ہی ہوئی کہ ہمارے لیے عار بن گئی ہے۔‘‘[4] اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’ہمارے پاس وہ کچھ نہیں ہے جس کے بارے میں یہ لوگ الزام لگاتے ہیں، اوراپنے ہاتھ سے عراق کی طرف اشارہ کیا۔‘‘[5] یہ وہ ائمہ اطہار ہیں جن پر رافضی اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ کا اطلاق کرتے ہیں۔ اورانہیں اللہ عزوجل کی صفات العلیٰ سے موصوف کرتے ہیں۔ اور ربوبیت کے وہ افعال ان کی طرف منسوب کرتے ہیں جوصرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں، مخلوق کا اس میں کوئی حصہ نہیں۔ اور رافضیوں کے ان امور میں جھوٹے ہونے پر گواہی دیتے ہیں جو امور اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہیں مگر رافضی انہیں ان[ائمہ ] کی طرف منسوب کرتے ہیں ؛ اوران کی زبانی جھوٹی روایات گھڑتے ہیں۔ رہا قدح و طعن کا پہلو، تواس کے بھی حرام ہونے پر کتاب و سنت کی روایات دلالت کرتی ہیں : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : [1] رجال الکشی ص: ۱۹۲۔ [2] أصول الکافی ۱/۱۵۷۔ [3] مشارق أنوار الیقین ص :۶۹۔ بحار الأنوار ۲۵/ ۲۸۴۔ [4] بحار الأنوار ۲۵/ ۲۸۶۔