کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 432
مگر یہودی اور رافضی ان دونوں مواقف [عقائد] میں عدل کرنے والے نہیں ہیں وہ یا تو بہت زیادہ غلوکرنے والے ہیں یا طعن زنی اور قدح کرنے والے ؛ یہ دونوں باتیں مذموم ہیں۔ غلو : اللہ تعالیٰ نے کئی آیات میں غلو کرنے سے منع کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ قُلْ یٰٓـاَ ہْلَ الْکِتَابِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ غَیْرَ الْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعُوْا أَہْوَآئَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوْا مِنْ قَبْلُ وَأَضَلُّوْا کَثِیْرًا وَّضَلُّوْا عَنْ سَوَائِ السَّبِیْلِ ﴾ (المائدہ: ۷۷) ’’ کہو کہ اے اہلِ کتاب! اپنے دین (کی بات) میں ناحق مبالغہ نہ کرو اور ایسے لوگوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلو جو (خود بھی) پہلے گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی اکثر گمراہ کر گئے اور سیدھے رستے سے بھٹک گئے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿یٰٓاَہْلَ الْکِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِکُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الْحَقَّ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَی ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ وَ کَلِمَتُہٗ اَلْقٰہَآ اِلٰی مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْہُ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَۃٌ اِنْتَہُوْا خَیْرًا لَّکُمْ اِنَّمَا اللّٰہُ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ سُبْحٰنَہٗٓ اَنْ یَّکُوْنَ لَہٗ وَلَدٌ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ وَ کَفٰی بِاللّٰہِ وَکِیْلًاo﴾ (النساء:۱۷۱) ’’ اے اہلِ کتاب! اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور اللہ کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ اللہ تھے اور نہ اس کے بیٹے بلکہ) اللہ کے رسول ؛اس کا کلمۂ ( بشارت ) تھے جو اُس نے مریم کی طرف القاء کیا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لاؤ اور (یہ) نہ کہو (کہ اللہ) تین (ہیں اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اللہ ہی اکیلا معبود ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کے اولاد ہو جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اللہ ہی کارساز کافی ہے۔‘‘ علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’ اس آیت سے مراد افراط اورتفریط کی نفی ہے۔ افراط میں عیسائیوں کا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں غلو کرنا ہے ؛ یہاں تک کہ انہوں نے آپ کو رب بنالیا۔ اور تفریط میں یہودیوں کا آپ کے بارے میں غلو کرنا ہے ؛ جنہوں نے آپ کے غیر ہدایت یافتہ اورناکام انسان قرار دیا۔‘‘ [1] ان دونوں آیتوں میں یہودیوں اور رافضیوں پر صاف اورواضح ردہے؛جو کہ بعض انبیاء اور صالحین کی شان میں غلو کرتے ہیں، بلکہ ہر اس انسان پر رد ہے جو اس راہ پر چلے۔ دین میں غلو کے خطرہ کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی شان میں غلو کا ہر راستہ بند کردیا ؛ اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی [1] تفسیر ابن کثیر ۲/ ۳۰۔