کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 425
یہ گمان کرنے لگا کہ آپ نبی ہیں۔ پھر ان کی شان میں غلو کرتے ہوئے اس سے آگے بڑھا اور یہ کہنے لگا کہ آپ ہی ’’اللہ ‘‘ معبود ہیں۔ پھر کوفہ کے بہکے ہوئے لوگوں کو اس کی دعوت دینے لگا۔ (یہاں تک کہ آپ کہتے ہیں …) ’’محققین اہلِ سنت کہتے ہیں : ’’ بے شک ابن سوداء یہودی دین پر تھا۔ وہ حضرت علی اور ان کی اولاد رضی اللہ عنہم اجمعین کے نام پر مسلمانوں کو دین کے بارے میں گمراہ کرنا چاہتا تھا تاکہ (مسلمان) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے وہی عقیدہ رکھیں جو عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رکھتے ہیں۔ رافضی بھی سبائیوں کی طرف منسوب ہیں ؛ان کا کفر، تدلیس، گمراہی اور تاویلات اصل میں اہل بدعت اور خواہش پرست فرقوں کی جڑوں سے ہی نمو پایا ہے۔‘‘[1] ان نصوص کے بعد اب شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ در اصل ائمہ کی شان میں غلو اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین پر طعن کرنا رافضیوں میں یہودیوں کی کتابوں سے عبد اللہ بن سبا کے ذریعے سے منتقل ہوا ہے۔ میں اس حقیقت کو یقینی بنانے کے لیے یہودی اور رافضی کتابوں میں واردان نصوص کاتقابلی جائزہ پیش کروں گا جو رافضیوں اور یہودیوں کے ہاں غلو اور طعن ہر دو جانب کی ترجمانی کرتی ہیں ؛ تاکہ ان دونوں کے درمیان موافقت و مطابقت ظاہر ہوجائے ؛ حتی کہ عبارات اور الفاظ کے استعمال میں بھی موافقت۔ [سامنے آجائے ] غلو کا پہلو : ۱۔ یہودیوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں غلو کیا ؛ یہاں تک کہ گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہتے ہوئے خطاب کیا: …میں نے تجھے فرعون کا معبود بنایا ہے۔ اور تیرا بھائی ہارون تیرا نبی ہوگا۔‘‘ نیز رافضیوں نے حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کی شان میں غلو کیا، یہاں تک ان کے متعلق ربوبیت کا دعویٰ کرنے لگے؛ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں کہتے ہیں: ﴿قَالَ أَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُہُ ثُمَّ یُرَدُّ إِلٰی رَبِّہِ فَیُعَذِّبُہُ عَذَابًا نُّکْرًا﴾ (الکہف:۸۷) ’’ کہا کہ جو (کفر و بدکرداری سے) ظلم کرے گا ہم اسے عذاب دیں گے، پھر (جب) وہ اپنے رب کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اُسے بُرا عذاب دے گا۔‘‘ کہتے ہیں : ’’اسے امیر المومنین کے پاس لوٹایا جائے گا۔‘‘ مجلسی نے کہا ہے : ’’رب سے مراد امیر المومنین علیہ السلام ہیں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی تربیت کی ذمہ داری آپ کو دی تھی۔‘‘ ۲۔ یہودیوں نے اللہ کے نبی حضرت دانیال علیہ السلام کی شان میں غلو کیا، اور کہا : بے شک آپ کا نام اللہ تعالیٰ کے اسم گرامی کی طرح ہے۔ اور بے شک اللہ کی روح ان میں حلول کر گئی ہے اور بے شک آپ میں اللہ تعالیٰ کی حکمت جیسی حکمت ہے اور اللہ کی ذہانت جیسی ذہانت ہے۔ [1] فرق الشیعۃ : ص : ۲۲۔ [2] المقالات و الفرق ص: ۲۰۔ [3] الأنوار النعمانیۃ ۲/ ۲۳۴۔ [4] التنبیۃ والرد علی أہل الأہواء والبدع ص: ۱۸۔