کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 413
کردیتے ہیں ؛اور جس نے شام ہوتے ان پر ایک بار لعنت کی ؛ اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر لکھ دیا جاتا ہے۔ کہتا ہے: پھر ہمارے آقا علی بن الحسین چلے گئے۔ میں اپنے آقا ابوجعفر محمد الباقر کے پاس گیا، اور کہا : اے میرے آقا! کیاآپ نے اپنے والد سے یہ حدیث سنی ہے ؟انہوں نے کہا :اے ثمالی لاؤ (وہ حدیث کون سی ہے؟)؛ میں نے ان کے سامنے دوبارہ وہ حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا : ہاں ! اے ثمالی! کیا تم چاہتے ہوکہ اس سے زیادہ بھی بیان کروں ؟میں نے کہا : اے میرے آقا ! کیوں نہیں ؟ (ضرور بتائیے ) [تو آپ نے فرمایا:]جس کسی نے ان دونوں پر ہر روز صبح کے وقت ایک بار لعنت کی ؛ اس [دن اور] رات میں ان کے نامہ اعمال میں کوئی گناہ نہیں لکھا جاتا ؛ یہاں تک کہ اگلی صبح ہوجائے۔‘‘[1] ان کے ہاں مشہور دعاؤں میں سے جن کے ذریعہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتے ہیں ؛ وہ دعاء ہے جسے وہ :’’دو قریشی بتوں کی دعا‘‘ سے موسوم کرتے ہیں۔ اس سے مراد جناب حضرت ابو بکر حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو لیتے ہیں۔ اور اس دعا کو ظلم اور جھوٹ بکتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ یہ دعا ان کی کئی ایک کتابوں میں موجود ہے لیکن اس کا اصلی مرجع ایک (دعاؤں کی ) کتاب ہے، جس کا نام لیا جاتا ہے : ’’مفتاح الجنان‘‘ یہ کتاب میرے پاس موجود ہے۔ اور کتاب میں موجود دعا کی عبارت ان الفاظ میں ہے : (یہ قریش کے بتوں کی دعا امیر المومنین کے کلام میں سے [منقول] ہے) (( اللّٰهم صلِّ علی محمد و آل محمد،والعن صنمي قریش وجبتیہا،و طاغوتیہا، و افکیہا،وابنتیہما الذین خالفا امرک و أنکرا وحیک و وجحدا إنعامک؛ وعصیا رسولک،وقلبا دینک ؛ و حرفا کتابک، وأحباء أعدائک،وجحدا آلائک، وعطلا أحکامک ؛ وأبطلا فرائضک ؛ وألحدا في آیاتک ؛ وعادیا أولیائک ؛ و والیا أعدائک ؛ … (باقی دعا کا ترجمہ پیش ہے)) ’’اے اللہ ! درود ہو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اور آل محمد پر۔اے اللہ ! قریش کے دونوں بتوں پر لعنت کر؛ ان کے باطل مبعودوں پر، اور ان کے دونوں طاغوتوں پر،اور بہتان گھڑنے والوں پر؛اور ان دونوں کی بیٹیوں پر؛ وہ دو جنہوں نے تیرے حکم کی مخالفت کی؛ اورجنہوں نے تیری وحی کا انکار کیا۔ اور تیرے انعامات کے منکر ہوئے، اورجن دونوں نے تیرے رسول کی مخالفت کی؛ اورانہوں نے تیرے دین کو بدل ڈالا؛اور تیری کتاب میں تحریف کی۔ اور تیرے دشمنوں سے محبت کی؛ اور تیرے انعامات کے منکر ہوئے۔ اوران دونوں نے تیرے احکام کو ترک کیا؛ اور تیرے فرائض کو باطل قرار دیا؛ اورتیری آیات میں الحاد کیا(یعنی ملحد [1] چوتھے سے مراد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو لیتے ہیں۔دیکھو: اگلی روایت۔ [2] اس کانام عبد اللہ بن وہب الراسبي ہے۔ یہ خوارج میں پہلا شخص ہے جس کی امامت کی بیعت کی گئی۔اس نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا؛ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے بہت سخت جنگ کی؛جس کے نتیجہ میں ان میں سے صرف نو افراد ہی بچ سکے۔الملل والنحل ۱/ ۱۱۷۔ [3] تفسیر القمي ۲/ ۴۴۹۔ [4] کتاب کے محقق نے ان رموز کے معانی بیان کیے ہیں ، وہ عسکر بن ہوسر کے معانی میں کہتا ہے:’’بنو امیہ یا بنو عباس کے بعض خلفاء سے کنایہ ہے۔اور ایسے ہی ابو سلامہ ابو جعفر الدوانیقی سے کنایہ ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ عسکر عائشہ اور سارے اہل جمل سے کنایہ ہو۔ حاشیۃ تفسیرالقمي ۲/ ۲۴۳۔ [5] تفسیر العیاشی ۲/ ۲۴۳ [6] ثواب الأعمال و عقاب الأعمال ص: ۲۵۵۔ [7] یہ بات کئی بار واضح کرچکے ہیں کہ شیعہ بت سے مراد ابو بکرؓ کو لیتے ہیں ، جب کہ باطل معبود سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لیتے ہیں۔ دیکھئے: عیاشی کی سابقہ روایت۔