کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 395
’’انبیاء، رسولوں اور ائمہ کے متعلق ہمارا اعتقاد ہے کہ وہ معصوم ہوتے ہیں اور ہر قسم کی نجاست سے پاک ہیں۔ اور وہ نہ ہی چھوٹاگناہ کرتے ہیں اور نہ بڑا گناہ اور نہ ہی جو کچھ اللہ تعالیٰ ان کو حکم دیتے ہیں، اس کی نافرمانی کرتے ہیں۔ اور جو کچھ انہیں حکم دیا جاتا ہے وہ کر گزرتے ہیں۔ اور جنہوں نے کسی بھی چیز میں کسی بھی حال میں ان سے عصمت کی نفی کی، اس نے یقیناً انہیں جاہل کہا ہے ؛ اور جس نے انہیں جاہل کہا، اس نے کفر کیا۔‘‘[1] اس عقیدہ میں ان کے معاصر علماء بھی اپنے اسلاف کے ساتھ شریک ہیں۔ محمد رضا المظفر کہتا ہے : ’’ ہم اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ امام نبی کی طرح ہوتا ہے، اس لیے یہ واجب ہے کہ وہ ظاہری اور باطنی تمام رزائل اور فواحش سے ؛ بچپن سے لے کر موت تک پاک ہو؛ خواہ عمدًا ہو یا سہواً۔ ( کوئی گناہ ان سے صادر نہ ہو ) جیسا کہ یہ واجب ہے کہ وہ خطا، نسیان اور سہو سے پاک ہو۔‘‘[2] نیز وہ کہتا ہے : ’’ بلکہ ہم اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کا حکم اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ او ران کی نہی اللہ تعالیٰ کی نہی ہے، ان کی نافرمانی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہے۔ ان کا دوست اللہ تعالیٰ کا دوست ہے، اور ان کا دشمن اللہ تعالیٰ کا دشمن ہے۔ اور ان کی بات کو رد کرنا جائز نہیں۔ ان کو رد کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رد کرنے والا ؛ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رد کرنے والا ایسے ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ پر رد کرنے والا۔ ‘‘[3] نیز خمینی کہتا ہے: ’’ہم اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ ائمہ نے فقہاء کو جو منصب تفویض کیاہے، اس کا حق آج تک ان کے لیے محفوظ ہے۔ اس لیے کہ ائمہ جن کے بارے میں ہم کسی سہو یا غفلت کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ او راہم اس بات کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان میں ان تمام مصلحتوں کا احاطہ ہے جو مسلمانوں کے حق میں ہیں۔ وہ اس بات کے واقف تھے کہ فقط ان کے مر جانے سے ان کے فقہاء سے یہ منصب ختم نہیں ہوجائے گا۔‘‘[4] اور ائمہ کی تعلیمات کے متعلق کہتا ہے : ’’ بے شک ائمہ کی تعلیمات قرآنی تعلیمات کی طرح ہیں۔ یہ کسی خاص نسل کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ یہ تعلیمات ہر جگہ اور ہر زمانے کے لوگوں کے لیے ہیں۔ اور قیامت کے دن تک ان کو نافذ کرنا اور ان کی اتباع کرنا واجب ہے۔‘‘[5] [1] بنیہ سے مراد کعبہ کی بنیاد لوگ اس کی قسم اٹھاتے ہیں۔ [2] أصول الکافی : الکلینی ۱/ ۲۶۱۔ بصائر الدرجات : صفائر ص ۱۴۹۔ [3] أوائل المقالات ص ۷۱-۷۲۔