کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 394
سیف تمار سے منقول ہے، وہ کہتا ہے: ’’ہم ابو عبد اللہ ( علیہ السلام ) کے ساتھ تھے۔ انہوں نے کہا : ’’ کعبہ کے رب کی قسم ! اور اس بنیاد (اس سے مراد بھی کعبہ ہے ) کے رب کی قسم! [1] (آپ نے تین بار یہ بات کہی) اگر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور خضر علیہ السلام کے درمیان ہوتا تو میں انہیں بتادیتا کہ میں ان سے زیادہ عالم ہوں، اور میں انہیں وہ چیز بھی بتا دیتا جو اس کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔ اس لیے موسیٰ اور خضر علیہما السلام کو وہی علم دیا گیا ہے جو کچھ ہوگیا ؛ اور جو کچھ ہونے والا ہے ؛ اور جو کچھ قیامت تک ہوگا؛ اس کا علم انہیں نہیں دیا گیا تھا۔ اور یہ علم ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت میں پایا ہے۔‘‘[2] یہ رافضیوں کا اپنے ائمہ کے متعلق عقیدہ ہے۔ وہ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ ان کے امام غیب کا علم رکھتے ہیں۔ اور وہ جانتے ہیں جو کچھ مردوں کی پیٹھ میں ہے، اور جو کچھ ماؤں کے رحموں میں ہے۔ او رجو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمینوں میں ہے ؛ اور جو کچھ جنت میں ہے، او رجو کچھ جہنم میں ہے۔ ائمہ کی شان میں رافضیوں کے غلو کا ایک منظر اور یہ بھی ہے کہ : ’’ ان کا یہ اعتقادکہ ائمہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔‘‘ ان کے شیخ ’’ مفید‘‘ نے ائمہ کی عصمت پر رافضیوں کا اجماع نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے : ’’ بے شک ائمہ جو کہ احکام نافذ کرنے، او رحدود قائم کرنے میں، اور شرائع کی حفاظت اورلوگوں کو تادیب دینے میں انبیاء کے قائم مقام ہوتے ہیں ؛انبیاء کی طرح گناہوں سے پاک ہوتے ہیں۔ او ران سے کوئی صغیرہ گناہ بھی نہیں ہوسکتا، سوائے اس کے جو کہ انبیاء کے لیے ہونا ممکن ہے۔ اور ان سے کسی دینی معاملہ میں بھول ہونا بھی جائز نہیں ہے، اور نہ ہی احکام میں کسی چیز کو بھولتے ہیں۔ اور اس بات پر تمام امامیہ فرقوں کا اتفاق ہے سوائے چند شاذ قسم کے لوگوں کے ؛ جو ظاہر روایات سے چپکے ہوئے ہیں، جن کی تاویلات اس باب میں ان کے فاسد گمان کے خلاف ہیں۔‘‘[3] اس نص میں ’’ مفید ‘‘ کا خیال ہے کہ ائمہ سے نہ ہی بھول ہوسکتی ہے اور نہ ہی غفلت۔ اور ائمہ معصوم ہیں ؛ ان سے کوئی صغیرہ گناہ بھی نہیں ہوسکتا، سوائے اس طرح کے گناہوں کے جو انبیاء کرام سے ہوسکتے ہیں۔ ان کے بعض علماء نے اس پر کچھ اور زیادہ کیا ہے۔ ان کا گمان ہے کہ ائمہ سے صغیرہ گناہ کا صادر ہونا بھی ممکن نہیں ہے۔ زنجانی نے صدوق سے نقل کیا ہے، انہوں نے کہا ہے : [1] بحار الأنوار للمجلسی ؛ ۲۶/ ۲۷-۲۸۔ [2] مصدر میں ایسے ہی آیا ہے ، جب کہ درست آیت اس طرح ہے : ﴿ وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیْئٍ﴾ (النحل:۸۹) ’’اور ہم نے آپ پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں ) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے۔‘‘الکلینی : اصول الکافی ۱/ ۲۶۱؛ وبحار الأنوار ۲۶/ ۲۸۔