کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 391
ہیں۔ وہ فسق کرتے ہیں، اور جھوٹ کی راہ پر چلتے ہیں۔ اور شر پھیلانے والوں کے ہاتھ باندھتے ہیں، یہاں تک کہ ان میں سے کو ئی ایک بھی اپنے شر سے رجوع نہ کر سکے۔‘‘[1] اور ایک دوسری نص میں ہے :’’ انبیاء نے جھوٹی خبریں لائیں، اور کاہنوں نے ان کے ہاتھوں پر احکام (نافذ) جاری کیے۔‘‘[2] اور سفر اشعیا میں ہے : ’’ کاہن اور نبی نشہ کی وجہ سے غشی میں آگئے؛انہیں شراب نے نگل لیا تھا ؛ وہ نشہ کی وجہ سے گر پڑے ؛ وہ اپنے خواب میں اور اپنے فیصلہ میں گمراہ ہوئے۔‘‘[3] اور سفر ارمیا میں ہے : ’’ اور اس لیے کہ انبیاء اور کاہن سب پلید ہوگئے، بلکہ میرے گھر میں میں نے ان کے شریر کو پایا؛ رب کہتا تھا۔‘‘[4] یہ صرف چند مثالیں یہودیوں کی کتابوں میں وارد ہوئی ہیں جن میں انبیاء اور کاہنوں پر طعن اور تنقید ہے۔ جب کہ اس موضوع پر ان کی نصوص بہت ہی زیادہ ہیں۔ بس اتنے بیان سے میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے انبیاء اور کاہنوں سے متعلق موقف پر میں نے (بعض کی شان میں غلو اور بعض کی شان میں تنقیص) دونوں جانب سے کافی مناسب روشنی ڈالی ہے۔ والحمد للّٰه رب العالمین دوسری بحث :… رافضیوں کا ائمہ میں غلو اور صحابہ پر طعن رافضی اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ کے خلیفہ ہیں۔ اور یہ کہ آپ سے پہلے کے تین خلفاء نے آپ کا حق غصب کیا ہے۔ اور صاحب ِنص کو خلیفہ نہ بناکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ (تینوں خلفاء) کافر اور مرتد ہیں۔ (العیاذ باللہ) اور ایسے ہی وہ تمام لوگ جنہوں نے ان تین خلفاء کی بیعت کی ؛ اور ان سے دوستی کی اور محبت رکھی؛ وہ بھی رافضیوں کے ہاں کافر اور مرتد ہیں۔ جب کہ تمام صحابہ کرام کا حضرت ابو بکر؛ عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کی خلافت کے درست ہونے پر اجماع تھا۔ اور ان کا نظریہ ہے کہ یہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوسروں سے بڑھ کر خلافت کے مستحق تھے۔ سو یہ تمام لوگ رافضیوں کے نزدیک کافر ہیں، سوائے تین کے۔ ان کے بارے میں رافضیوں کا گمان ہے کہ انہوں نے زبردستی بیعت کی تھی۔ کافی میں ہے : حنان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ ابو جعفر ( علیہ السلام ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں : [1] سفر الملوک الاول اصحاح ۴۔ فقرات ۲۱-۲۳۔ [2] اصحاح ۴ ؛ فقر ہ ۱-۴۔