کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 386
کی منزلت کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ ان کا عقیدہ ہے کہ حاخام انبیاء سے افضل ہوتے ہیں۔‘‘ تلمود میں ہے : ’’ جان لیجیے کہ حاخاموں کے اقوال انبیاء کے اقوال سے افضل ہیں اور اس پر مزیدیہ کہ آپ پر حاخاموں کے اقوال پر شریعت کی طرح اعتبار کرنا لازم ہے، اس لیے کہ ان کے اقوال اللہ تعالیٰ زندہ رہنے والے کے اقوال ہیں۔ جب آپ سے کوئی حاخام کہے کہ آپ کا دائیاں ہاتھ بائیاں ہے، یا اس کے بر عکس، تو اس کی بات کی تصدیق کریں اور اس سے خواہ مخواہ نہ جھگڑیں۔ سو اس وقت کیا عالم ہوگا جب وہ دائیں ہاتھ کو دائیاں ہی کہیں ؛اوربائیں ہاتھ کو بائیاں ہی کہیں۔‘‘[1] ایسے ہی ان لوگوں کا نظریہ ہے کہ حاخاموں کے اقوال اصل میں اللہ تعالیٰ کے ہی فرمودات ہیں۔ اور یہ واجب ہے کہ حاخاموں کے اقوال کو بغیر کسی جدال کے مسلمہ طور پر مانا جائے، بھلے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ تلمود میں یوں آیا ہے : ’’ جو کوئی اپنے حاخام یا معلم سے جھگڑا کرے، اس نے غلطی کی گویا کہ اس نے اللہ رب العزت سے جھگڑا کیا۔‘‘[2] حاخام مناحم حاخاموں کے متضاد اقوال کے متعلق کہتا ہے : ’’ یقیناً یہ اللہ تعالیٰ کا ہی کلام ہے، خواہ ان میں جتنا بھی تناقض پایا جائے جو کوئی انہیں معتبر نہ جانے۔ یا یہ بات کہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اقوال نہیں ہیں ؛ اس نے یقیناً اللہ تعالیٰ کے حق میں خطا کا ارتکاب کیا۔‘‘[3] تلمود کی نصوص میں سے ایک اور نص میں ہے : ’’ بے شک ہر دور اور ہر شہر میں ربانی کلمات ہی اللہ تعالیٰ کے کلمات ہیں، اس لیے کہ انبیاء کے کلام سب سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ اگر چہ یہ آپس میں متناقض اور متنافر بھی ہوں۔ جو کوئی ان کا ٹھٹھہ اڑائے، یا صاحب کلمات پر طنز کرے، یا ان پر اف تک کہے، اس نے بہت بڑے گناہ کا ارتکاب کیا۔ (یہ ایسے ہی ہے ) جیسے کوئی اللہ تعالیٰ کا مذاق اڑائے، یا اس پر طنزکرے، یا اس پر اف کہے۔‘‘[4] ایک دوسری نص میں ہے : ’’ ربانیین کا خوف رکھنا ہی حقیقت میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔‘‘[5] حاخاموں کے متعلق غلو اس حد تک پہنچ گیاتھا کہ وہ یہ گمان کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ بعض مشکلات پر قابو پانے کے [1] ڈاکٹر روہلنج : ’’ الکنز المرصود ص ۴۵۔ [2] ’’ الکنز المرصود ص ۴۴۔ وبونس حنا مسعد : ہمجیۃ تعالیم الصہیونیۃ ص ۲۲۔ [3] ڈاکٹر روہلنج: ’’ الکنز المرصود ص ۴۴۔ [4] ڈاکٹر روہلنج: ’’ الکنز المرصود ص ۴۵۔ [5] ڈاکٹر روہلنج: ’’ الکنز المرصود ص ۴۵۔