کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 385
ان نصوص میں سے کچھ کی صراحت تلمود میں ہے۔ اس اعتبار سے کہ کتاب ’’ تلمود ‘‘ حاخاموں کی آراء کی ترجمان ہے، اوراس تورات سے افضل ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل کی ہے۔ تلمود میں ہے : ’’ اے میرے بیٹے ! حاخاموں کے اقوال کی طرف اس سے زیادہ دھیان دینا جو دھیان موسیٰ کی شریعت کی طرف دیتے ہو۔‘‘[1] اور اس میں یہ بھی ہے : ’’ جس نے تورات پڑھی اس نے اچھا کام کیا، لیکن اس پر بدلے کا مستحق نہیں ہے۔ اور جس نے ’’مشناۃ ‘‘ پڑھی اس نے فضیلت کا کام کیا، اور اس پر بدلہ کا بھی مستحق ہے، اور جس نے ’’غامارا‘‘ پڑھی اس نے بہت بڑی فضیلت کا کام کیا۔‘‘[2] اور اس میں یہ بھی ہے : ’’ جس نے حاخاموں کے اقوال کو حقارت کی نظر سے دیکھا وہ موت کا مستحق ہے، جب کہ تورات کے اقوال کو حقارت سے دیکھنے والوں کے لیے یہ سزا نہیں ہے،اور جس نے تلمود کی تعلیمات کو ترک کردیا اور صرف تورات کی تعلیم میں مشغول ہوگیا اس کے لیے کوئی نجات نہیں ہے۔ اس لیے کے تلمود کے علماء اقوال اس شریعت سے افضل ہیں جو موسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں۔ ‘‘[3] ایک حاخام کی کتاب میں یہ بات بھی ہے : ’’ جو انسان مشناۃ اور غامارا کے بغیر تورات پڑھتا ہے، اس کا کوئی الٰہ نہیں۔‘‘ [4] نیز اسی کتاب میں ہے : ’’ بے شک تورات پانی سے مشابہ ہے، اور مشناۃ سرکہ (نبیذ ) سے، اور غامارا خوشبودار سرکہ سے مشابہ ہے۔ اور کوئی انسان ان تین کتابوں سے مستغنی نہیں ہوسکتا جیسا کہ کوئی انسان ان گزشتہ ذکرکردہ تین اصناف سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔‘‘[5] ان کے ہاں تلمود کی یہ منزلت ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ تلمود تورات سے افضل ہے۔ اور کسی یہودی کے لیے اس بات کی نہیں کہ وہ تورات کو لے کر تلمود سے مستغنی ہوجائے۔ یہودی دلوں میں تلمود کی یہ عظیم الشان منزلت یہ حاخاموں [1] سفر اشعیا، اصحاح ۱۱ ، فقرات ۱-۲۔ [2] اصحاح ۱۸، فقرات ۴۱-۴۵۔