کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 383
کوئی معبودنہیں ہے، پس میری ہی بندگی کرو۔‘‘ انبیاء کرام علیہم السلام کی شان میں غلو کی ایک مثال حضرت یعقوب علیہ السلام کے متعلق غلو ہے۔ جب وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے کشتی کی، اور اس پر غالب آگئے (اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بری اور بلند ہیں ) سفر تکوین میں ہے : ’’سو یعقوب علیہ السلام اکیلے رہ گئے۔ اور ان کے ساتھ ایک انسان نے طلوع ِ فجر تک کشتی کی۔ جب دیکھا کہ وہ اس پر غالب نہیں آرہے تو ان کی ران میں ایک مار ماری۔ تو حق تعالیٰ حضرت یعقوب علیہ السلام کی سرین سے جدا ہوا، اور ان سے کشتی ترک کی، اور کہا : مجھے چھوڑ دیجیے، فجر طلوع ہوگئی ہے۔ (حضرت یعقوب علیہ السلام نے) کہا: ’’ اگر تم مجھ میں برکت نہیں ڈالو گے تو میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ اس نے کہا : تمہارا نام کیا ہے ؟کہا : ’’یعقوب‘‘ تو فرمایا: ’’آج کے بعد اس یعقوب نام سے نہیں پکارا جائے گا، بلکہ اسرائیل نام ہوگا ؛ اس لیے کہ تو نے اللہ کے ساتھ جہاد کیا اور لوگوں کے ساتھ جہاد کیا اور ان پر غالب آیا۔ ‘‘[1] ایسے ہی ان لوگوں نے حضرت دانیال علیہ السلام کی شان میں غلو کیا، اور ان کے متعلق گمان کرنے لگے کہ اللہ تعالیٰ ان میں داخل ہوگیا ہے (یعنی حلول کر گیا ہے۔) بخت نصر کی ایک عوامی تقریر میں ہے (جس میں اس نے تمام اہل زمین سے خطاب کیا تھا۔) ’’ آخر میں میرے دونوں پاؤں دانیال میں داخل ہوئے،جس کا نام ( بلطشاصرّ) اللہ تعالیٰ کے نام کی طرح ہے۔ جس میں قدوسیوں کے معبودوں کی روح ہے۔ اس کے سامنے اپنا خواب بیان کیا اور کہا : ’’ اے بلطشا صر، مجوس کے بڑے (رہنما) میں جانتا ہوں کے تجھ میں قدوسیوں کے مبعودوں کی روح ہے؛ اور تجھ پر کوئی راز مشکل نہیں ہے، جو خواب میں نے دیکھا ہے، اس کی تعبیر مجھے بتادیں اور اس کی تعبیر دے دیں۔‘‘[2] بخت نصرکی وفات کے بعد اس کے بیٹے کی ملکہ سے خطاب کے بارے میں ہے : ’’ تمہارے ملک میں ایک آدمی پایا جاتا ہے جس میں قدوسیوں کے معبودوں کی روح ہے۔ تمہارے باپ کے دنوں میں اس میں روشنی اور ذہانت، اور ایسی حکمت پائی گئی تھی جیساکہ معبودوں کی حکمت ہوتی ہے۔‘‘[3] یہ کلام اگرچہ بابل کے بادشاہوں کی طرف منسوب ہے، مگر یہودیوں کا اس کلام کو اسفار میں ذکر کرنا، اور پھر حضرت دانیال علیہ السلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے شروع میں اسے لانا، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس بات [1] اصحاح ۷ فقرہ (۱)۔