کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 375
صدیاں اور زمانے گزرے ہیں اور امت اسلامیہ کا اس پر اجماع رہا ہے کہ : بے شک وہ قرآن جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کیا، وہ وہی قرآن ہے جو اب مسلمانوں کے ہاتھوں میں موجود ہے۔ نہ ہی اس میں کوئی زیادتی اور نہ ہی کوئی نقصان۔ نہ ہی اس میں کوئی تغییراور تبدیلی رونما ہوئی۔ اور نہ ہی ان میں سے کسی بات کا ہونا ممکن ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا اور بچا کر رکھنے کا وعدہ کیا ہے۔ اور اس (اجماع) میں کسی نے مخالفت نہیں کی، سوائے رافضہ کے۔ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ: بے شک قرآن میں تحریف، تغییر اور تبدیل ہوئی ہے اور ان کا یہ بھی گمان ہے کہ صحابہ نے ہی یہ تحریف اپنی دنیاوی مصلحتوں کی وجہ سے کی ہے۔ ان کا یہ عقیدہ باطل ہے۔ اس کے باطل ہوتے پر قرآن کریم کے دلائل ہیں،اورائمہ اہل بیت کے اقوال،اور عقل۔ اب آپ کے سامنے ان کی تفصیل پیش کی جارہی ہے : اولاً : قرآن سے دلائل : ان دلائل کی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم : وہ صریح آیات جواللہ تعالیٰ کے حفاظت ِ قرآن کی ذمہ داری پر دلالت کرتی ہیں ؛ اوریہ کہ ایسابالکل نا ممکن ہے کہ قرآن کریم میں تحریف یا تبدیلی واقع ہو۔ اس بارے میں آیات بہت ساری ہیں،جن میں سے : اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ الٓمٓ o ذَلِکَ الْکِتَابُ لَا رَیْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ﴾ (البقرہ: ۱۔۲) ’’الم۔ یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں ہے (کہ یہ کلامِ باری تعالیٰ ہے۔ اللہ سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ﴿اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہُ لَحَافِظُوْنَ﴾ (الحجر:۹) ’’بے شک یہ ’’ذِکر‘‘ ہم نے ہی اتاراہے اور ہم ہی ا س کے نگہبان ہیں۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿ الَر o کِتَابٌ أُحْکِمَتْ آیَاتُہُ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِن لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ﴾ (ہود:۱) ’’الٓر۔ یہ وہ کتاب ہے جس کی آیتیں مستحکم ہیں اور اللہ حکم و خبیر کی طرف سے بہ تفصیل بیان کر دی گئی ہیں۔‘‘ نیز اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿لَا یَأْتِیْہِ الْبَاطِلُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَلَا مِنْ خَلْفِہِ تَنزِیْلٌ مِّنْ حَکِیْمٍ حَمِیْدٍ ﴾ (فصلت:۴۲) [1] الموافقات : ۲/ ۵۹۔