کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 367
امہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔رضی اللہ عنہم اجمعین۔ دوسری قسم: کلام میں اپنی جگہ سے ہٹ کر[لفظی] تحریف : اس قسم کی تحریف الفاظ اور عبارات کو تبدیل کر کے، یا اپنی جگہ سے آگے پیچھے کرکے ہوتی ہے تاکہ اس کا معنی مقصود ختم ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس جرم کے ارتکاب کے بارے میں خبر دی ہے، فرمایا : ﴿وَمِنَ الَّذِیْنَ ہِادُواْ سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ سَمَّاعُوْنَ لِقَوْمٍ آخَرِیْنَ لَمْ یَأْتُوْکَ یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہِ ﴾ (المائدہ:۴۱) ’’ اُن میں سے جو یہودی ہیں غلط باتیں بنانے کے لیے جاسوسی کرتے پھرتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے جاسوس بنے ہیں جو ابھی آپ کے پاس نہیں آئے وہ کلمات کو اپنی جگہ کے بعد بدل دیتے ہیں۔‘‘ رافضی بھی کتاب اللہ کی عبارات کو بدلنے اور اس کے معانی کو تبدیل کرنے ؛اس میں تقدیم اور تاخیر کرنے کی جرأت میں یہودیوں سے کم نہیں ہیں ؛ جس میں ان کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ یہ آیت ایسے نازل ہوئی تھی ؛ اور بے شک صحابہ نے اور ان کی صف ِ اول میں ابو بکرو عمر ( رضی اللہ عنہم اجمعین ) نے اس میں تحریف کی اور اسے بدل ڈالا۔ ‘‘ انہوں نے اپنے ائمہ سے اس بارے میں اتنی روایات نقل کی ہیں جن کی تعداد کو صرف اللہ ہی جانتا ہے؛ جو محرف قرآن کی تصحیح کے بارے میں ہیں (ان کے گمان کے مطابق ) ان روایات میں سے : تفسیر قمی میں آیا ہے : ابو عبد اللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں منقول ہے :﴿وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّۃٌ﴾ (آل عمران: ۱۲۳) ’’ اور اللہ نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اُس وقت بھی تم (گری ہوئی حالت میں ) بے سروسامان تھے۔‘‘ وہ پست نہیں تھے، اور ان میں اللہ کے رسول موجود تھے۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یوں نازل کی تھی :﴿وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ ضُعَفَائَ﴾[1]’’ اور اللہ نے جنگِ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی، اور تم اس وقت بہت کمزور تھے۔‘‘ تفسیر قمی میں یہ بھی ہے : ابو عبد اللہ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں منقول ہے : ﴿یٰٓـاَ یُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِیْنَ﴾ (التحریم:۹) ’’ اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجیے۔‘‘ فرمایا :یہ ایسے ہی نازل ہوئی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے جہاد کیا، اور علی نے منافقین سے ؛ پس حضرت علی کا جہاد
[1] تفسیر قمی ۲/ ۳۴۵۔ زریق سے مراد ابو بکر اور حبتر سے مراد عمر کو لیتے ہیں۔( رضی اللہ عنہما ) [2] أصول الکافی ۱/ ۴۱۳۔ [3] أصول الکافی ۱/ ۴۲۰۔ [4] أصول الکافی ۱/ ۴۲۷۔