کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 359
محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اختلاف قرآن؛ اور جو کچھ بعض ظالموں نے اس میں حذف اور کمی کی ہے؛ کے متعلق اخبار شہرت کے ساتھ آئی ہیں۔‘‘[1] اور ایک بڑا شیعہ مفسر ہاشم البحرانی اپنی تفسیر ’’ البرھان ‘‘ کے مقدمہ میں کہتا ہے : ’’جان لیجیے کہ وہ حق جس سے کوئی راہ ِ فرار نہیں ہے، جیسا کہ آنے والی متواتر اخبار میں ہے ؛ اور ان کے علاوہ دوسری خبروں میں : ’’بے شک یہ قرآن جو ہمارے ہاتھوں میں ہے، اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تغیرات واقع ہوئے ہیں ؛ اور جن لوگوں نے آپ کے بعد اسے جمع کیا تھا،انہوں نے بہت ساری آیات اورکلمات اس سے خارج کردیے ہیں۔‘‘[2] نیز وہ کہتا ہے : ’’اور میرے پاس یہ بات (تحریف و تغییر قرآن )وضاحت کے ساتھ ثابت ہے، اس کے بعد کہ میں نے اخبار کو چھان مارا، اور روایات کو کھنگالا۔ اس طرح یہ حکم لگانا ممکن ہے کہ یہ عقیدہ شیعہ مذہب کی ضروریات میں سے ہے؛ اور یہ بھی کہ خلافت غصب کرنے کا ایک بڑا اہم مقصد ہے۔‘‘[3] محمد باقر مجلسی تحریف قرآن پر دلالت کرنے والی بعض روایات کی شرح کرتے ہوئے کہتا ہے : ’’اور خواص اور عوام کی سندوں سے (قرآن میں ) نقص اورتغییر واقع ہونے کی خبریں متواتر ہیں۔ اورعقل بھی یہ بات کہتی ہے : جب قرآن لوگوں کے پاس پھیلا ہوا (منتشر ) تھا؛ اب غیر معصوم کی اس کو جمع کرنے کی کوشش کرنا؛ یہ بات عادتاً نا ممکن ہے کہ اسے واقعہ کے مطابق جمع کیا جائے۔‘‘[4] اور نعمت اللہ الجزائری نے کہا ہے: ’’بے شک وہ احادیث جو تحریف قرآن پر دلالت کرتی ہیں ان کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ ان کے مشہور ہونے کا دعویٰ ایک جماعت نے کیا ہے، جیسے مفید، اورمحقق داماد ؛ اور علامہ مجلسی ؛ اوران کے علاوہ باقی لوگ۔ بلکہ شیخ طوسی نے بھی ’’ التبیان۔‘‘میں ان (روایات )کی کثرت کی صراحت کی ہے ؛ بلکہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایک جماعت نے تواتر کے ساتھ روایت کیا ہے۔‘‘[5] اس نے یہ بھی کہا ہے : اس کے وحی الٰہی ہونے کے تواتر کا؛ اور اس سارے قرآن کا جبرئیل امین کا نازل کردہ ہونا تسلیم کرنا؛ یہ مشہور اخبار کو رد کرنے کی طرف لے کر جاتا ہے؛ بلکہ متواتر اخبار کو بھی ؛ جو کہ صراحت کے ساتھ قرآن میں تحریف واقع ہونے پر دلالت کرتی ہیں ؛ اپنے کلام ؛ مواد، اور اعراب ہر اعتبار سے۔ اور ہمارے اصحاب نے ان احادیث کی صحت اورتصدیق پر اتفاق کیا ہے۔‘‘[6] [1] فصل الخطاب : ص ۲۴۹۔ [2] فصل الخطاب : ص ۲۴۹۔