کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 353
اور یہی قراء ت علی علیہ السلام سے بھی نقل کی گئی ہے۔‘‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ مشائخ جو قرآن میں عدم تحریف کا کہتے تھے،مگر اس کا خود اعتقاد نہیں رکھتے تھے۔ ورنہ وہ ان روایات کو بغیر کسی تعلیق؛ اوران پر جرح کیے بغیر اپنی کتابوں میں روایت نہ کرتے۔ اس وجہ سے ایک اہم سوال یہاں پر پیدا ہوتا ہے،وہ یہ کہ : ’’ان علماء نے عدم ِ تحریف کے قول کا اظہار کیوں کیا،جب کہ وہ اس کے معتقد نہیں تھے؟ جو لوگ ان کے عقائد جانتے ہیں ان کے لیے اس سوال کا جواب بڑا ہی واضح ہے لیکن اس کے باوجود ہم اپنی طرف سے کوئی جواب نہیں دیں گے؛ بلکہ انہی لوگوں کی زبانی اس کا جواب دیں گے۔ نعمت اللہ الجزائری تحریف فی القرآن پر امامیہ کا اجماع ذکر کرنے کے بعد کہتا ہے : ’’ہاں ! اس میں مرتضی،صدوق، او ر شیخ طبرسی نے مخالفت کی ہے۔ اور انہوں نے حکایت نقل کی ہے کہ جو قرآن ما بین الدفتین(غلاف کے دو پہلوؤں کے درمیان ) موجود ہے، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے، اس میں کچھ بھی اس کے علاوہ نہیں ہے۔ اور اس میں کوئی تبدیلی یا تحریف واقع نہیں ہوئی…۔‘‘ اور یہ ظاہر ہے کہ اس قول کا اظہار ان سے کئی مصلحتوں کی بنا پر ہوا ہے۔ ان میں سے ایک(مصلحت شیعیت پر ) طعن کا دروازہ بند کرنا ہے۔ اس طرح کہ اگر قرآن میں تحریف کوجائز سمجھا جائے تو پھر اس کے احکام اور قواعد پر عمل کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے۔ (اس کا جواب عنقریب آئے گا) یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ان چوٹی کے علماء نے اپنی کتابوں میں بہت ساری ایسی روایات نقل کی ہیں جو قرآن میں ان امور کے واقع ہونے پر شاہد ہیں۔ اوریہ کہ فلاں آیت ایسے نازل ہوئی تھی ؛ پھر اسے ایسے بدل دیا گیا۔‘‘[1] نیز نوری طبرسی شیخ طوسی کی طرف سے اپنی کتاب مجمع البیان میں عدم ِ تحریف قرآن کا قول نقل کرنے پر معذرت پیش کرتے ہوئے کہتا ہے: ’’ کتاب ’’التبیان ‘‘میں غور و فکر کرنے و الے پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ اس بارے میں ان کا طریقہ مدارت اور دشمن کے ساتھ چل چلائو کا ہے۔ بے شک آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اس آیات کی تفسیر میں قتادہ، حسن، ضحاک ؛ سدی، ابن جریج؛ جبائی، زجاج اور ابن زید اور ان کے امثال کے اقوال نقل کرنے پر اکتفاکیاہے۔ نیز امامیہ میں سے کسی ایک کا قول بھی نقل نہیں کیا۔اورنہ ہی ائمہ علیہم السلام میں سے کسی ایک سے کوئی خبر یا حدیث نقل کی ہے، سوائے چند ایک مقامات کے۔ شاید کہ مخالفین نے ان کی کچھ موافقت کی ہو۔ بلکہ پہلے لوگوں نے مفسرین کے اس پہلے طبقہ میں شمارکیا ہے، جن کے طریقہ کی تعریف کی گئی ہے،اور [1] جب کہ صحیح آیات اس طرح ہیں : ﴿فَاسْتَمْسِکْ بِالَّذِیْ أُوحِیَ إِلَیْْکَ اِنَّکَ عَلَی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ٭وَاِنَّہُ لَذِکْرٌ لَّکَ وَلِقَوْمِکَ وَسَوْفَ تُسْأَلُوْنَ﴾ (الزخرف: ۴۳۔۴۴) ’’پس آپ کی طرف جو وحی کی گئی ہے اس کو مضبوط پکڑے رہو بیشک تم سیدھے رستے پر ہو۔ اور یہ (قرآن) تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے نصیحت ہے اور (لوگو!) تم سے عنقریب پرسش ہوگی۔‘‘ [2] أمالي الطوسي ص : ۳۷۳۔ [3] مجمع البیان ۱/ ۲۸۔ [4] مجمع البیان ۱/ ۲۸۔