کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 334
عثمان رضی اللہ عنہم وہی لوگ ہیں جنہوں نے قرآن میں تحریف کی اور اتنا بڑا حصہ ضائع کردیا۔ ان کا خیال ہے کہ قرآن سے جوحصہ حذف کیا گیاہے اس میں بنیادی طور پر دو قسم کے مضمون بیان ہوئے تھے : اول:… آل بیت اور خصوصاً حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل ؛ اور ان کی امامت کے بارے میں قرآنی نصوص۔ دوم :… مہاجرین او رانصار کی بد کاریاں اور رسوائیاں ؛ جن کے بارے میں رافضی گمان کرتے ہیں کہ یہ لوگ منافق تھے، اور اسلا م میں داخل ہی نہیں ہوئے، بس صرف اس کے خلاف سازش کرنے کے لیے۔ یہ رافضیوں کا عقیدہ ہے جس کا اظہار ان کے بڑے علماء نے ان کے ہاں حدیث و تفسیر کی مشہور کتابوں میں کیاہے۔ مگر بعض معاصر رافضی علماء اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں مگر ان کا یہ انکار اس وجہ سے نہیں ہے کہ وہ لوگ اس عقیدہ کے فساد کو سمجھ گئے ہیں، اور اب وہ حق کی طرف لوٹنا چاہتے ہیں (اے کا ش! اگر ایسا ہوجائے) بلکہ جو چیز[ان کی ]اس [بد نیتی] پر دلالت کرتی ہے وہ (کسی نہ کسی طرح ) ان کی زبانوں پر آجاتی ہے۔ اور ان کی نوک ِ قلم ایسے مواقع پر پھسل ہی جاتی ہے( اور اس بات کا اقرار کرلیتے ہیں کہ ) وہ ابھی تک اپنے اسلاف کے اس گندے عقیدہ پر قائم ہیں اور اس سے ذرا بھر بھی ادھر ادھر نہیں ہوئے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ مسلمان اس عقیدے کا انکار کرتے ہیں اور اس سے نفرت کرتے ہیں، تو وہ اس کے اُن نتائج سے ڈر گئے جو بعض حالات میں ؛ اگر اس عقیدہ کا کھل کر اظہار کریں تو سامنے آسکتے ہیں۔ اس وجہ سے وہ منافقت کے پردہ میں پناہ لینے؛ مکر اور دھوکا بازی کرنے پر مجبور ہوئے۔(یہی وہ حیلہ ہے) جسے رافضی تقیہ کا نام دیتے ہیں۔ جب یہ لوگ اس فن کو اچھی طرح جانتے تھے، تو ان کی باتوں سے بہت سارے لوگ دھوکے میں آگئے بلکہ خود کو علم کی طرف منسوب کرنے والے بہت سے لوگ بھی ؛ جنہوں نے اس گمراہ فرقہ کے عقیدہ کے متعلق اچھی طرح چھان بین نہیں کی تھی؛ وہ ان کی باتوں میں آگئے اور ان کی ہر بات کی تصدیق کرنے لگے۔باوجود اس کے کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے میں بہت ہی مشہور ہیں۔ ائمہ اسلام ان کی خصوصی پہچان کثرت سے جھوٹ بولنا بتایا کرتے تھے۔ اس وجہ سے علماء حدیث ان کی روایت رد کردیتے تھے، حالانکہ وہ بہت سے مبتدعین فرقوں سے بھی روایت کر لیا کرتے تھے اس کا کوئی اور سبب نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ لوگ جھوٹ بولنے میں مشہور ہیں۔ پھر سراسر تعجب ہی تعجب ہے کہ آج کل کے بعض مسلمان ان کی باتوں سے کیسے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اب جو مسلمان دھوکے میں آچکے ہیں، ان سے علاوہ کوئی اور اس دھوکے میں نہ آئے جو ان بعض معاصر علماء اس عقیدہ کا انکار کرتے ہیں ؛ اس لیے میں اس بحث میں ان شاء اللہ قرآن کریم کے بارے میں رافضیوں کا عقیدہ ان کی [1] اظہار الحق ص: ۹۰۔