کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 300
کتاب میں ہر چیز لکھی، اور زمین و آسمان کو پیدا کیا۔‘‘[1] ان احادیث میں یہودیوں پر رد ہے جو بعض افعال پر اللہ تعالیٰ کی طرف ندامت منسوب کرتے ہیں۔ اور رافضیوں پر رد ہے جو بعض امور یا خبروں سے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف ’’بداء ‘‘ منسوب کرتے ہیں۔ اور ان کی عقلوں نے کیسے اس بات کو مان لیا کہ ایسی ہستی سے ندامت صادر ہو جو تمام امور کی تفصیل اور باریکیاں ان کے پیدا کرنے سے ہزاروں سال پہلے جانتی ہے۔ پھر انہیں اپنے پاس لکھ رکھا ہے۔ سو نہ ہی کوئی پتہ گرتا ہے، اور نہ ہی زمین کے اندھیروں میں کوئی دانہ ہے، مگر وہ اسے جانتاہے۔ رہا یہودیوں کا یہ گمان کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی دعا کی وجہ سے بنی اسرائیل سے ہلاکت کو ٹال دیا۔ اور رافضیوں کا یہ گمان کہ اللہ تعالیٰ اسماعیل بن جعفر کی موت کو اس کے والد کی دعا کی وجہ سے دو بار ٹال دیا ؛ ان بد گمانیوں کے باطل ہونے پر یہ احادیث دلالت کرتی ہیں۔ وہ حدیث جیسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے، آپ فرماتے ہیں : ’’(نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ مطہرہ) حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے اللہ ! مجھے فائدہ دے میرے شوہررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ؛ اور میرے باپ ابو سفیان سے،اور میرے بھائی معاویہ سے ( رضی اللہ عنہما )۔‘‘ آپ کہتے ہیں : تونبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ یقیناً تم نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا ہے، طے شدہ اجل کا اور گنتی کے دنوں کا ؛ اور تقسیم شدہ رزق کا ؛ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو اس وقت سے پہلے بھی نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی چیز کو اس کے وقت سے لیٹ کریں گے۔ اور اگر تم اللہ سے سوال کرتی کہ وہ تمہیں جہنم کے عذاب سے نجات دے، اور عذاب ِ قبر سے محفوظ رکھے ؛ تو یہ بہتر اور افضل ہوتا۔‘‘[2] سو اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تقدیر مقدر کر دی ہے۔ اس سے کوئی چیز نہ پہلے ہوگی، اور نہ ہی اس میں تاخیر ہوگی۔اگر اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے یا اسماعیل بن جعفر کو مارنے کا ارادہ ہوتا، تو اللہ تعالیٰ کر گزرتے۔ اور کسی بھی مخلوق کے لیے،بھلے اس کا کتنا ہی بڑا مقام کیوں نہ ہو؛ یہ ممکن نہ ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر میں سے کچھ ٹال سکے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کو کوئی رد کرنے والا نہیں ہے۔ ثالثاً: عقلی دلائل: عقل اللہ تعالیٰ کے لیے صفات علم کے اثبات اور اس کے علم میں ہر چیز کا احاطہ کیے ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، اللہ تعالیٰ کے لیے صفت ِ علم کے اثبات پر عقلی دلائل کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : [1] ’’لد ‘‘ بیت المقدس کے قریب فلسطین کا ایک گاؤں ہے۔ وہاں پر عیسیٰ علیہ السلام دجال کو پالیں گے اور قتل کرڈالیں گے۔ معجم البلدان ۵/۱۵۔ [2] مجموع الفتاویٰ ۸/ ۴۹۵۔ [3] مسلم کتاب القدر ،باب: حجاج آدم و موسیٰ علیہما السلام ح: ۴۹۰۳۔