کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 286
کے ائمہ کا جھوٹ کبھی ظاہر نہیں ہوسکتا، اور وہ دو قول ہیں : ’’ عقیدہ بداء اور عقیدہ تقیہ۔‘‘ جب ان کے ائمہ نے اپنے آپ کو اپنے شیعہ عوام الناس میں اس منزلت پر براجمان کر لیا جو منزلت علم ِ ما کان و ما یکون کے لحاظ سے انبیاء کرام علیہم السلام کو حاصل ہوتی ہے، اور ان امور کی خبر دیتے ہیں جو آئندہ کل کو ہونے والے ہیں۔ [ان میں سے کچھ] ائمہ اپنے شیعہ سے کہا کرتے تھے: ’’کل اور آنے والے دنوں میں ایسا اور ایسا ہوگا۔‘‘ اگر وہ معاملہ ایسے ہی ہوجاتا جیسے انہوں نے کہا تھا ؛ تو کہتے : کیا ہم نے تمہیں خبر نہیں دی تھی کہ ایسا ہوگا ؟ہم اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہی جانتے ہیں جو انبیاء جانتے تھے۔ اور ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان وہی اسباب ہیں جن سے انبیاء کو علم حاصل ہوا ہے جو کچھ بھی علم حاصل ہوا۔ اور اگروہ چیز نہ ہوتی جس کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ یہ بات ان کے کہے کے مطابق ہوگی؛ تو وہ اپنے شیعہ سے کہتے ہیں : ’’ اس اللہ تعالیٰ کو اس چیز کے ہونے کے بارے میں بداء ہوگیاہے۔‘‘[1] اور اس کی تائید بغدادی کی اس روایت سے ہوتی ہے،جس کے بارے میں اس کا خیال ہے کہ مختار بن ابو عبید الثقفی[2] وہ پہلا انسان ہے جس نے عقیدۂ بداء کا پرچار کیا۔ اور دعوی کیا کہ اس پر وحی آتی ہے۔ ایک بار ایسا ہوا کہ مصعب بن عمیر[3] رضی اللہ عنہ مختار سے قتال کرنے کے لیے نکلے۔ جب یہ خبر مختار تک پہنچی تواس نے اپنے ساتھی احمد بن شمیط کو اپنے لشکر کے تین ہزار چنیدہ لوگوں کے ساتھ ابن زبیر کے ساتھ مقابلہ کے لیے بھیجا۔ اور اسے یہ بتادیا کہ فتح آخر کار ان کو ہی حاصل ہوگی۔اور اس بارے میں یہ ظاہر کرنے لگا کہ اس پر یہ بشارت بذریعہ وحی نازل ہوئی ہے۔ مدائن کے مقام پر دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا۔ مختار کے ساتھیوں کو شکست ہوئی، ان کا امیر اور اکثر فوجی قتل ہوئے۔ ان کا شکست خوردہ دستہ واپس مختار کے پاس پہنچا،اور اس سے کہنے لگے : ’’ تم نے ہم سے دشمن پر فتح یاب ہونے کا وعدہ کیوں کیاتھا؟تووہ کہنے لگا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، مگر پھر اسے بداء ہوگیا۔‘‘ [1] مجمع البحرین ۱/۴۷؛ حاشیہ تفسیر القمی ۱/ ۳۹؛ حق الیقین فی معرفۃ أصول الدین : عبد اللّٰه شبر ،ص: ۱/ ۷۷۔ [2] اردبیلی مرتضی کی توثیق کرتے ہوئے لکھتا ہے : علی بن الحسین بن موسیٰ ابو القاسم ، المرتضی ؛ بڑی شان والاہے،علم الہدی رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے۔بہت سارے علوم میں یگانۂ روز گار ہے ؛ جس کے فضائل پر اتفاق و اجماع ہے۔علوم میں اس مقام پر تھے کہ ان کے زمانے کا کوئی انسان وہاں تک نہ پہنچ سکا۔حدیث کی سماعت کی ، اور کثرت سے روایت کیا۔ متکلم ، شاعر اور ادیب تھا ، دین اور دنیا کے علوم میں بڑی منزلت حاصل تھی۔ ۲۵ ربیع الاول سن ۴۳۰ ہجری میں موت آئی۔ جامع الرواۃ۱/ ۵۷۵۔ مزید دیکھو: الفہرست : ازطوسی ص: ۱۲۹۔ لؤلؤۃ البحرین : از بحرانی ص : ۳۲۰۔ أمل الآمل : از الحر العاملی ۲/ ۱۲۸۔ رہا طوسی ؛ اس کی توثیق ان کے امام ’’حلی ‘‘نے کی ہے؛ وہ کہتا ہے : ’’ محمد بن الحسن بن علی الطوسی ، ابو جعفر ، شیخ الامامیۃ، قدس اللہ روحہ ؛ رئیس الطائفۃ، جلیل القدر اور عظیم المنزلت ، ثقہ ، صدوق؛ احادیث کا ماہر ، علم رجال اور فقہ کا عارف۔ دیکھو: رجال العلامۃ الحلی ص: ۴۸۔ مجلسی نے کہا ہے : ’’ شیخ طوسی ابو جعفر ، محمد ابن الحسن علی الطوسی ؛ شیخ طائفہ اور فقیہ امت ؛ جن کی ثقاہت اور علوم و فنون میں تبحر پر اجماع ہے۔‘‘ بحار الأنوار ص: ۹۱۔