کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 275
گئی ہیں ؛ تو سفر تکوین میں آیاہے : ’’رب نے دیکھا کہ زمین میں انسان کا شر بہت بڑھ گیا ہے۔ اوروہ ہر ایک تصور [سے آگے تجاوز کررہا ہے جو] اس کے دل کی سوچ ہے۔اور بیشک آئے دن شرارت میں بڑھ رہا ہے تو رب اس بات پر رنجیدہ ہوا کہ اس نے انسان کو زمین میں بنایا اس نے اپنے دل میں افسوس کا اظہار کیا؛اور پھر رب نے کہا: اب میں روئے زمین سے اس انسان کو ختم کردوں گاجو میں نے پیدا کیا تھا۔ انسان کو چوپاؤوں، کیڑوں مکوڑوں،اور آسمان کے پرندوں کے ساتھ[ہلاک کروں گا] اس لیے کہ میں ان کو بنانے پر رنجیدہ ہوا ہوں۔‘‘[1] اس نص/ عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا، اور وہ نہیں جانتا تھا کہ مستقبل میں ان سے کیا شر رونماہوں گے۔ جب ان سے یہ شرور صادر ہوئے تواللہ تعالیٰ کو اپنی تخلیق پر افسوس ہوا۔ [تعالی اللّٰه عما یقول الظالمون علواً کبیر اً] یہودی اسفار میں اللہ تعالیٰ کی صفت ِ نسیان : یہودی اسفار کی روایات کے مطابق یہود اللہ تعالیٰ پر جن صفات کا اطلاق کرتے ہیں ان میں سے ایک صفت ِ نسیان [بھول جانا ] بھی ہے۔[2] ارمیا کے مرثیہ میں آیا ہے : ’’تو ہمیں کیوں ہمیشہ کے لیے بھول رہا ہے، اور ہمیں پورے دن چھوڑ رہا ہے، اے رب ! ہمیں واپس لوٹا دے، ہم تیری طرف لوٹتے ہیں۔‘‘[3] نیز سفر خروج میں ہے : [1] اصحاح ۱۵ ، فقرہ ۱۰-۱۱۔ [2] اصحاح ۲ ؛ فقرہ ۱۳-۱۴۔ [3] ابراہیم خلیل أحمد إسرائیل و تلمود ص ۶۶۔ [4] افسوس کے لیے ’’دو معانی ہیں : ایک جو گزر گیا ہے اس پر غم۔ اس لیے کہ عربوں کے ہاں اسف(افسوس) غم کے لیے (حزن ) کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ غم سے زیادہ سخت ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی ہے: ﴿إِن لَّمْ یُؤْمِنُوا بِہَذَا الْحَدِیْثِ أَسَفاً﴾(الکہف :۶) ’’اگر یہ (لوگ) اس کلام پر ایمان نہ لائیں تو [کیا آپ ان کے پیچھے] ’’رنج میں ‘‘[ اپنے آپ کو ہلاک کر دو گے۔‘‘ یعنی بہت ہی رنج؛ دیکھو : لسان العرب ۱۰/ ۳۴۷۔ اس معنی میں رنج و افسوس اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں ہوسکتا۔ اور نہ ہی اس کا اللہ تعالیٰ اطلاق کرنا جائز ہے۔ اور یہود اسی معنی میں اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر کرتے ہیں ، جیسا کہ ان کی نصوص سے ظاہر ہے۔ اور اس کا ایک معنی غضب کا بھی ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ﴿فَرَجَعَ مُوسَی إِلَی قَوْمِہِ غَضْبَانَ أَسِفاً ﴾ (طہ: ۸۶) ’’ اور موسیٰ غصے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے۔‘‘ دیکھو: لسان العرب ۱۰/ ۳۴۶۔ یہ معنی اللہ تعالیٰ پر غیر ممتنع ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَلَمَّا آسَفُوْنَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ ﴾ (الزخرف: ۵۵) ’’جب انہوں نے ہم کو خفا کیا تو ہم نے ان سے انتقام لے لیا۔‘‘ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اس کا معنی ہے کہ انہوں نے ہمیں ناراض کیا۔ اور امام ضحاک فرماتے ہیں : انہوں نے ہمیں غصہ دلایا۔ اور یہ معنی مجاہد،سعید بن جبیر ، عکرمہ؛ محمد بن کعب القرظی ؛ قتادہ اور سدی وغیرہ سے منقول ہیں۔ دیکھو: تفسیر ابن کثیر ۴/ ۱۳۰۔