کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 268
دیہاتیوں کی ایک جماعت سے؛ جنہوں نے قیامت کے بارے میں پوچھا تھا ؛تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھا ؛ اورفرمایا تھا : ’’اگر یہ زندہ رہا، اور بڑھاپا اس کونہ پاسکا تو تم پر تمہاری قیامت قائم ہوجائے گی۔‘‘ [1] آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناً یہ خبردی ہے کہ معاصر لوگوں کی قیامت اس مرحلہ تک پہنچنا ہے۔ یعنی کہ ان کی موت۔ (سے قیامت قائم ہوجائے گی) حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو بھی انسان مر گیا اس کے لیے قیامت قائم ہوگئی۔ اوریہ بات معلوم ہے کہ جس کے لیے قیامت قائم ہو جائے اس کا دنیا میں لوٹ کر آنا محال ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ دوبارہ دنیا میں لوٹ کر آجائے تو اس کے لیے یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اس کے لیے قیامت قائم ہوگئی ہے ؛ اور یہ بات اہل عقل و دانش کے ہاں معلوم شدہ ہے۔ اجماع سے: تمام مسلمانوں کے آپس میں مذہبی اختلاف کے باوجو د اس بات پر اتفاق اور اجماع ہے کہ موت کے بعد قیامت سے پہلے کوئی رجعت [دوبارہ دنیا میں لوٹایا جانا ] نہیں ہے۔ اور اس مسئلہ میں سوائے رافضیوں کے، کسی کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مسلمانوں کا مرُدوں کی رجعت کے جائز نہ ہونے پر اجماع اور اس کا علم ضرور ہر مسلمان کو حاصل ہے۔ میں نہیں چاہتا کہ میں یہ اجماع اہل ِ سنت کی کتابوں سے ذکر کروں، یا ان سے ہٹ کر دوسرے مسلمان فرقوں کی کتابوں سے ذکر کروں ؛ بلکہ میں یہ اجماع رافضیوں ہی کی کتابوں سے ذکر کروں گا تاکہ ان پر حجت خوب قائم ہوجائے۔ ان کے علماء میں سے جنہوں نے یہ اجماع نقل کیا ہے(ان میں سے ): (شیخ) مفید (ہے، وہ) کہتا ہے : ’’ اور امامیہ کا بہت سارے مُردوں کا قیامت سے پہلے اس دنیا میں لوٹ کر آنے پر اتفاق ہے۔ اگرچہ ان کے درمیان ’’رجعت کے معنی ‘‘ میں اختلاف ہے۔ ایسے اللہ تعالیٰ کے لیے لفظ ِ ’’بداء‘‘[2]کے اطلاق پر بھی اتفاق ہے، سماعت[3]کے اعتبار سے، قیاس نہیں۔ اور اس بات پر اتفاق ہے کہ ائمہ ضلالت وگمراہی نے قرآن کے لکھنے میں بہت اختلاف کیا ہے، اور بہت ساری چیزوں میں وحی کے موجب سنت رسول [1] تفسیر الطبري ۲۱/ ۶۹-۷۰۔