کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 263
’’اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی۔‘‘ اس آیت کے بارہ میں گمان کرتے ہیں کہ جو حشر اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے وہ رجعت کے ساتھ خاص ہے۔ رہا قیامت کا حشروہ اس کے علاوہ ہے، جس میں تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا ؛ جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے : ﴿وَّحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا﴾ (الکہف: ۴۷) ’’ اور ہم انہیں جمع کر لیں گے توان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔‘‘ ان کا اس آیت سے رجعت پر استدلال کرنا؛اس دعویٰ کے ساتھ کے یہ دوسری آیت، یعنی: ﴿وَّحَشَرْنَاہُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْہُمْ اَحَدًا﴾ سے تعارض رکھتی ہے۔ یہ ایک باطل استدلال ہے، اس لیے کہ حشر کی چار قسمیں ہیں۔ جن میں سے دو دنیا میں ہیں، اور دو حشر آخرت میں ہیں۔ وہ دو حشر جو دنیا میں ہیں : ان میں سے پہلا حشر : یہودیوں کاشام کی سر زمین پر جمع ہونا ہے۔ اس حشر کے بارے میں اللہ تعالیٰ کایہ فرمان ہے: ﴿ہُوَ الَّذِیْ أَخْرَجَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْ أَہْلِ الْکِتَابِ مِن دِیَارِہِمْ لِأَوَّلِ الْحَشْرِ﴾ (الحشر: ۲) ’’ وہی تو ہے جس نے کفار اہلِ کتاب کو حشرِ اوّل کے وقت ان کے گھروں سے نکال دیا تمہارے خیال میں بھی نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے۔‘‘ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’پہلا حشر دنیا کا حشر تھا، جب وہ شام کی سر زمین پراکھٹے کیے جائیں گے۔‘‘ دوسراحشر : جس کا تذکرہ قیامت کی نشانیوں میں آتا ہے کہ آگ نکلے گی اوروہ لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف جمع کرے گی۔ صحیح بخاری اور مسلم میں سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ لوگوں کو تین مجموعوں میں جمع کیا جائے گا؛ رغبت رکھنے والے اور ڈرے ہوئے۔ دو ایک اونٹ پر، اورتین ایک اونٹ پر؛ ایک اونٹ پر چار اور ایک اونٹ پر دس۔ اور ان سے باقی رہ جانے والوں کو آگ جمع کرے گی ؛ جو ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی، جہاں بھی وہ آرام کریں گے؛ اور ان کے ساتھ ہی رات گزارے گی؛ وہ جہاں بھی رات گزارے گی۔اوران کے ساتھ ہی صبح کرے گی جہاں وہ صبح کریں گے۔ اور ان کے ساتھ ہی شام کرے گی وہ، جہاں بھی وہ شام کریں گے۔ ‘‘[1] [1] منہاج السنۃ ۲/ ۳۲۔