کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 256
اول …اجتماعی رجعت کے وقت کے متعلق دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق ؛ یہودیوں کا ہاں اس رجعت کا وقت ان کے مسیح منتظر کے خروج کا ہے، جب کہ رافضہ کے ہاں اس رجعت کا وقت ان کے مہدی منتظر کے خروج کا ہے۔ دوم…یہودیوں اور رافضیوں دونوں کے ہاں رجعت کے ہدف (مقصد) میں اتفاق ؛ یہودیوں کے ہاں رجعت مسیح منتظر کے لشکر میں شامل ہونے اور ان کی نصرت کے لیے ہوگی۔ اور رافضیوں کے ہاں رجعت مہدی منتظر کے لشکر میں شامل ہونے اور دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرنے کے لیے ہوگی۔ سوم… دونوں گروہوں کے درمیان مردوں کو دوبارہ زندگی دینے پر انسانی قدرت پر اتفاق ؛ سو یہودی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے انبیاء اور حاخام مردوں میں سے جس کو چاہیں دوبارہ زندگی دے سکتے ہیں۔اور رافضی اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کے ائمہ مردوں میں سے جسے چاہیں دوبارہ زندگی دینے کی قدرت رکھتے ہیں۔ یہودی اور رافضی عقیدہ ٔرجعت میں مشابہت کی یہ چند ایک وجوہات ہیں۔ اگر چہ ان دونوں کے مابین اس عقیدہ (کے بعض امور) میں اختلاف بھی ہے لیکن یہ بات صاف ظاہر ہے کہ رجعت کا عقیدہ خالصتاًیہودی عقیدہ ہے۔ جو عبد اللہ بن سبا کے واسطہ سے رافضیوں تک پہنچا؛ جو کہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتا تھا جس کی وجہ سے عام مسلمانوں میں یہودی عقائد پھیلائے گئے تاکہ انہیں دین اسلام سے دور کرسکیں۔ (اسلامی تاریخ میں ) سب سے پہلے جس نے عقیدۂ رجعت اور اس جیسے طوفان خیز افکار کی طرف دعوت دی، اور اس کا شوشہ چھوڑا وہ عبد اللہ بن سبا یہودی ہی تھا۔ قدیم اور جدید ہر دور کے محقق علماء نے یہ ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے اسلام میں عقیدۂ رجعت کی صدا عبد اللہ بن سبا نے لگائی، اور اس سے مذکورہ عقیدہ کو رافضہ نے قبول کیا۔ امام طبری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ’’ بے شک ابن سبا نے جن عقیدوں کو رواج دیا ان میں سے عقیدہ ٔرجعت بھی ہے۔ جب اس نے اہل ِ مصر سے یہ کہا : ’’ ان لوگوں پر تعجب ہے جو یہ گمان تو کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام دوبارہ لوٹ کر آئیں گے، مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لوٹ کر آنے کوجھٹلاتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلٰی مَعَادٍ ﴾ (القصص:۸۵) ’’ جس نے آپ پرقرآن کو فرض کیا ہے وہی آپ کو پہلی جگہ لوٹا دے گا۔‘‘ سو محمد صلی اللہ علیہ وسلم عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ لوٹ کر آئیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ : ’’ لوگوں نے اس کی بات کو قبول کیا ؛ اور ان کے لیے عقیدۂ رجعت ایجاد کیا، بعد اس میں لوگ کلام کرنے لگے۔‘‘[1] [1] بحار الأنوار ۴۷/ ۱۱۱۔