کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 249
جاؤگے، تمہارے ساتھ تمہارے ساتھیوں کی ایک جماعت بھی شہید کردی جائے گی۔ اور یہ جنگ تم پر ان تمہارے ساتھیوں پر ٹھنڈی اورسلامتی والی ہوگی۔ تو پھر آپ کو خو شخبری ہوکہ اللہ کی قسم اگر ہم قتل کردیے گئے تو ہم اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹ کر جائیں گے۔ پھر جنتا عرصہ اللہ چاہے گا وہاں رہیں گے۔ پھر میں سب سے پہلا انسان ہونگا جس کی قبر کھولی جائے گی،میں ایسے نکلوں گا کہ میرا نکلنا امیر المومنین علیہ السلام کے نکلنے کے موافق ہوگا، اور ہمارے قائم کے قیام اور نبی کی زندگی کے (موافق ہوگا)۔‘‘ مجلسی یہ روایت نقل کرنے کے بعد کہتا ہے :’’ جان لیجیے کہ احادیث میں سے یہ حدیث رجعت پر دلالت کرتی ہے، جوکہ امامیہ مذہب کے اصولوں میں سے ہے۔‘‘[1] اور ابو جعفر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ہے : ’’بیشک حضرت علی رضی اللہ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ کر آئیں گے۔‘‘[2] حر العاملی نے حضرت علی بن حسین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے، وہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ﴿اِنَّ الَّذِیْ فَرَضَ عَلَیْکَ الْقُرْآنَ لَرَادُّکَ إِلٰی مَعَادٍ ﴾ (القصص: ۸۵) ’’ بیشک جس نے آپ پرقرآن کو فرض کیا ہے وہ تمہیں معاد میں لوٹا دے گا۔‘‘ فرمایا: ’’ تمہارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تمہارے پاس واپس آئیں گے۔ ‘‘[3] اور ابو جعفر سے ہی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر میں روایت کیا گیا ہے: ﴿یَوْمَ نَدْعُوْا کُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِہِمْ﴾ (بنی اسرائیل :۷۱) ’’ جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔‘‘ فرمایاکہ:’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک گاؤں میں آئیں گے۔اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دوسرے گاؤں میں آئیں گے ؛ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ تیسرے گاؤں میں ؛ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ ایک گاؤں میں ؛اور جو کوئی جس قوم میں مرا ہوگا، وہ اس کے ساتھ آئیں گے۔ ‘‘[4] رہا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رجعت اور ان کو عذاب دینے کے بارے میں رافضی جو گمان کرتے ہیں، اس بارے میں احادیث مہدی منتظر کی بحث میں نقل کی گئی ہیں ؛ وہاں دیکھ لیا جائے۔[5] دوسری قسم : …وہ روایات جو بعض مردہ انسانوں اور حیوانوں میں مہدی کے زمانہ کے علاوہ وقت میں زندگی [1] تفسیر القمي ۲/ ۲۵۶۔