کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 241
عورت کے ساتھ یہ سلوک! میں جس کے ہاں مقیم تھا۔‘‘ یعنی اس عورت کے ساتھ تو کیسے یہ سلوک کرسکتا ہے جس کے ہاں میں مقیم ہوں۔ پھر ان کا یہ کہنا کہ : ’’ تو نے اس کا بیٹا مار کر بہت ہی برا کیا۔‘‘ پھر کاتب کا (دعا کو) ان الفاظ میں تعبیر کرنا کہ : ’’ اور رب کی بارگا ہ میں چلایا۔‘‘ یہ تمام تر عبارتیں اللہ رب العالمین کے سامنے یہودیوں کی جراء ت اوران کی گستاخیوں، اور بے ادبی پر دلالت کرتی ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کو اس کے بعض کاموں میں خطا کار کہتے ہیں، اور اس کی طرف برائی کو منسوب کرتے ہیں، اور گمان کرتے ہیں کہ وہ ان امور سے رجوع بھی کرتا ہے ؛ جب اسے صرف یا د دلادیا جائے؛ اور اس کی سر زنش کی جائے۔ یہ اللہ تعالیٰ پر کتنے بڑے بڑے جھوٹ بولتے ہیں ؛ اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ کتنا ہی حلیم و بردبار ہے۔ نبی ایلیا کا قصہ سفر ملوک ثانی (بادشاہوں کا دوسراسفر ) میں وارداللہ کے نبی جناب حضرت یشع علیہ السلام کے قصہ سے مشابہت رکھتا ہے۔ جنہوں نے ایک بچے کو موت کے بعد زندگی عطا کی۔ اس قصہ کی عبارت (نص ) یہ ہے : ’’ نبی یشع علیہ السلام گھر میں داخل ہوئے، ناگہاں دیکھا کہ ایک بچہ مرا ہوا ہے، اسے چارپائی پر رکھا گیا ہے۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور اپنے دونوں نفوس پردروازہ بند کر دیا۔ اور رب کی بارگاہ میں دعا کی۔ پھر وہ اس بچے کے اوپر چڑھ کر لیٹ گئے اور اپنا منہ اس کے منہ پر رکھا، اور اپنی آنکھیں اس کی آنکھوں پر، اور اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں پر رکھے اور اس پر اپنے آپ کو پھیلا دیا۔ تو بچے کا جسم گرم ہوگیا۔ پھر آپ واپس پلٹے اور گھر میں ادھر ادھر چکر لگانے لگے۔ پھر اس بچے پر چڑھ کر تن گئے۔ وہ بچہ سات بار چھینکا ؛ پھر اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، اور اس نے حیجزي (نبی اللہ یشع کے خادم ) کو بلایا؛ تو آپ نے فرمایا: ’’ شونمیہ ‘‘ (مرنے والے بچے کی والدہ ) کو بلاؤ؛ انہوں نے اس کی والدہ کو بلایا۔جب وہ ان کے پاس اندر گئی تو فرمایا: ’’ اپنے بچے کو اٹھالے۔ ‘‘[1] یہ یہودیوں کے مقدس اسفار میں وارد ہونے والی روایات ہیں۔ رہی تلمود ؛ تو اس میں ایسی روایات بھی آئی ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بعض حاخام بھی انسانوں اور حیوانوں کو دوبارہ زندگی دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تلمود میں آیا ہے : ’’ ایک حاخام نے نشے کی حالت میں دوسرے حاخام کو قتل کردیا، پھر اس نے اپنا معجزہ دکھایا اور اس مقتول حاخام کو دوبارہ زندگی دے دی۔ ‘‘[2] [1] سفر الملوک اول : اصحاح ۱۷ ‘ فقرات ۱۷-۲۳۔