کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 230
نکلنے کی حکمت اور علت پوچھی جائے تو کہتے ہیں کہ : اسے اپنے قتل ہوجانے کا خوف ہے، [اس لیے وہ باہر نہیں آرہا ] صدوق نے صفوان بن یحییٰ سے روایت کیا ہے، وہ ابن بکیر سے اور وہ زرارہ سے اور وہ ابو عبداللہ علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں ؛ انہوں نے کہا : ’’ قائم کے لیے اس کے نکلنے سے پہلے تک غیبت کا عرصہ ہے۔ میں نے کہا : وہ کیوں ؟ کہا : وہ اپنے متعلق ڈرتا ہے کہ ذبح نہ کردیا جائے۔ ‘‘[1] اور شیخ الطائفہ طوسی کہتا ہے : ’’ اس کے ظاہر ہونے میں کوئی علت مانع نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ اپنے قتل کئے جانے سے ڈرتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کے علاوہ (کچھ علت) ہوتی؛ تو اس کے لیے چھپ کر رہنا جائز نہ ہوتا۔وہ مشقت اور تکلیف برداشت کرتا۔اس لیے کہ ائمہ اورانبیاء علیہم السلام کی منزلت اللہ کی راہ میں مشقت اٹھانے سے بڑھتی ہے۔ ‘‘[2] ہم ان سے کہتے ہیں :تم اپنے وہمی امام کے نہ نکلنے کی جو علت پیش کرتے ہو، یعنی کہ قتل ہو جانے کا خوف ؛ یہ ایک بے کار اور بودی سی علت ہے ؛ جس کے باطل ہونے پر کئی دلائل ہیں : اول … تمہاری کتابوں کی روایات میں ہے کہ امام کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد ہوگی اور تائید کی جائے گی۔ اور وہ زمین کے مشرق و مغرب کا بادشاہ بنے گا، اور زمین کو ایسے عدل سے بھر دے گا جیسے وہ ظلم سے بھری ہو۔ اور اس وقت تک زندہ رہیں گے یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہو جائیں۔ ابو جعفر سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں : ’’ قائم کی رعب کے ساتھ مدد کی گئی ہوگی۔ اور زمین اس کے لیے سمیٹ لی جائے گی۔ اور خزانے اس کے لیے ظاہر ہوں گے اور اس کی حکومت مشرق سے مغرب تک ہوگی۔ اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو غالب کریں گے ؛ اگرچہ مشرکوں کو یہ بات نا پسند ہی کیوں نہ ہو۔ اور زمین کا کوئی ویران علاقہ ایسا نہیں رہے گا جسے آباد نہ کرلیا جائے۔ اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، اور اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔‘‘[3] یہ مضمون دیگربہت سی ان روایات میں ذکرکیا گیا ہے؛ جنہیں رافضیوں کی [معتمد اور ثقہ ] کتابوں نے نقل کیا ہے۔ اگر مہدی اس بات پر ایمان رکھتا ہوگا کہ وہ تمام روایات جو اس کے آباء سے منقول ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ منصور من اللہ ہوگا، اور اس کی تائید کی گئی ہوگی ؛ اور یہ کہ وہ اس وقت تک زندہ رہے گا یہاں تک کہ عیسیٰ [1] أصول الکافی للکلینی ۱/ ۵۰۵۔ [2] الإرشاد ص ۳۳۸- ۳۳۹۔ [3] الطبرسی فی أعلام الوری ۳۵۸ -۳۵۹۔ [4] کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ ۲/ ۲۰۸ -۲۰۹۔ [5] جلاء العیون ‘ دیکھیے مہدی کے ذکر میں ‘ : الشیعۃ و التشیع احسان الٰہی ظہیر ص ۲۸۲۔ [6] الفصول المہمۃ في معرفۃ أحوال الأئمۃ ص ۲۸۸-۲۸۹۔ [7] منتہی الآمال ‘ دیکھیے مہدی کے ذکر میں ‘ : الشیعۃ و التشیع احسان الٰہی ظہیر ص ۲۸۲۔