کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 212
لی تھی۔‘‘[1] شیخ خالد محمدبن علی الحاج ظہور امام مہدی پر دلائل دیتے ہوئے بعض صحیح احادیث کا ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں : ’’ یہ بات قابل بیان ہے کہ یہ احادیث شریفہ ہمارے لیے کھلے طور پر امام مہدی کی بعض صفات ظاہر کرتی ہیں، جن کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خبر دی ہے۔ یہ شیعوں کے مزعوم امام مہدی کے خلاف ہیں ؛ ان صفات میں سے ہم یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ : اس مہدی کا نام اور اس کے باپ کا نام ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام کے موافق ہوگا۔اوروہ اپنی بعض اخلاقی اور فعلی صورتوں میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہوگا۔ رہا امامیہ شیعہ کے ہاں مہدی ؛ تووہ محمد بن حسن عسکری ہے۔ یہاں سے یہ بات ہمارے لیے واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے باپ کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کے نام سے نہیں ملتا۔ جیسا کہ سنت مطہرہ اس پر دلالت کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ثقہ تاریخ بھی ہم سے یہی کہتی ہے کہ حسن عسکری نے اپنے پیچھے کو ئی بیٹا نہیں چھوڑا۔ مختصراً یہ کہ شیعہ کے دعویٰ کی کوئی سند نہیں ہے۔ اور نہ ہی اسے معتبر علماء میں سے کسی ایک نے نقل کیا ہے۔ اورنہ ہی اس کا صحیح ہونا ثابت ہے۔ ہاں جب عقل نہ رہے تو پھر ہر چیز جائز ہے۔ ‘‘[2] شیخ عبد المحسن العباد حفظہ اللہ اپنی کتاب: ’’ عقیدۃ أھل السنۃ و الأثر فی المہدی المنتظر ‘‘ کے اختتامی کلمات میں ؛ جن کا انہوں نے عنوان رکھا ہے : ’’ آخری کلمات اس بیان میں کہ اہل سنت و الجماعت کے مہدی کے بارے میں عقیدہ کا شیعہ کے عقیدۂ مہدی سے کوئی تعلق نہیں ہے [مذکورہ عنوان میں ] فرماتے ہیں : ’’بے شک مہدی کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں، جنہیں مؤلفین نے قلم بند کیا ہے۔ اور علماء کی ایک جماعت کا کہنا ہے کہ یہ احادیث متواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اور اہلِ سنت و الجماعت اور دوسرے لوگوں اشاعرہ [ماتریدیہ وغیرہ] کا عقیدہ بھی انہی احادیث کے موجب ہے۔ جو کہ ایک ثابت حقیقت پربغیر کسی شک و شبہ کے دلالت کرتی ہیں ؛ اور جن کا حاصل( مقتضی) آخری زمانے میں ہوگا۔ اور اہل ِ سنت و الجماعت کے ہاں اس ثابت شدہ حقیقت کا شیعہ کے عقیدہ سے سرے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے کہ شیعہ جس مہدی کے خروج کا انتظار کرر ہے ہیں وہ محمد بن حسن عسکری، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہے ؛ جس کی نہ ہی کوئی حقیقت ہے اور نہ ہی کوئی اصل۔ امام مہدی کے بارے میں ان کا عقیدہ اصل میں ایک وہمی عقیدہ ہے جیسا کہ ان کے ہاں گزرے ہوئے ائمہ کی امامت کا عقیدہ، حقیقت میں ایک وہمی عقیدہ ہے ؛ جس کی نہ ہی کوئی اصل ہے اور نہ ہی حقیقت اور وجود۔ سوائے حضرت [1] المنار المنیف ص ۱۵۲۔ [2] الفتن و الملاحم ۱/ ۲۴-۲۵۔ [3] الفتن و الملاحم ۱/ ۲۹۔