کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 200
اگر آپ پہلے قول کو اختیار کروگے، تو پھر آپ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف وہی چیز منسوب کررہے ہیں جو کہ یہودی منسوب کرتے ہیں کہ یہ زبان اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ یہ ان کی بہت بڑی جراء ت رندانہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر ایسی[من گھڑت ] بات کہتے ہیں۔ اگر آپ دوسری بات اختیار کریں گے تو اس کا معنی یہ ہے کہ آپ کا خیالی اور تصوراتی مہدی یہودی ہوگا۔ وہ عربی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل سے نہیں ہوگا، توپھر اس کے بارے میں آپ کا کیا جواب ہے ؟ خروج ِمہدی پر تمام رافضیوں کا ایک جگہ پر اجتماع: ’’بحار الانوار‘‘ میں ابو الحسن علیہ السلام کے ایک غلام سے روایت کیا گیا ہے، وہ کہتا ہے : ’’میں نے ابو الحسن سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا : ﴿أَیْنَ مَا تَکُوْنُوْا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰہُ جَمِیْعًا ﴾ (البقرۃ: ۱۴۸) ’’ تم جہاں ہوں گے اللہ تم سب کو جمع کر لے گا۔ ‘‘ تو آپ نے فرمایا : ’’اللہ کی قسم ! اگر ہمارا قائم (امام مہدی) کھڑا ہوگیا تو اللہ تعالیٰ تمام ملکوں سے ہمارے شیعوں کو اس کے پاس جمع کردے گا۔ ‘‘[1] سو شیعہ سارے کے سارے زمین کے ہر کونے سے اپنے قائم کے پاس جمع ہوں گے۔ یہ اجتماع صرف زندہ لوگوں کا ہی نہیں ہوگا، بلکہ مردوں میں بھی روح پھونکی جائے گی اور انہیں ان کی قبروں سے نکالا جائے گا اور وہ اپنے امام منتظر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے جمع ہو جائیں گے۔ محمد بن الحسن حر عاملی نے ابو عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے، بے شک ان سے پوچھا گیا : ’’ قائم کی بادشاہی کتنا عرصہ رہے گی ؟‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ سات سال۔ ‘‘ اس کے دن اور رات اتنے لمبے ہوں گے کہ ان کے شیعہ کا ایک تم سنیوں کے دس سالوں کے برابر ہوگا۔ اور جب ان کے قائم ہونے کا وقت آئے گا تو جمادی الآخر کے دس دن لوگوں کے لیے بارش ہوگی اور رجب کے دس دن ؛ ایسی بارش ہوگی کہ خلائق نے اس جیسی بارش کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ اس سے اللہ تعالیٰ مومنین کے گوشت اور بدن کو قبروں سے اگائیں گے۔ گویا کہ میں ان کی طرف دیکھ رہا ہوں کہ وہ ’’جہینہ ‘‘ کی سمت سے بالوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے آرہے ہیں۔‘‘[2] مفضل بن عمر سے ایک دوسری روایت میں ہے، وہ کہتے ہیں : [1] کمال الدین و تمام المنۃ ص ۴۲۴۔ [2] اس جیسی مزید کہانیاں پڑھنے کے لیے دیکھیں : کشف الغمۃ ۲/۴۴۶۔ وینابیع المودۃ : لسلیمان بن ابراہیم البلخي باب الحادی والثمانون في خوارق المہدي زالکراماتہ التي ظہرت للناس ص ۱۱۸۔ [3] الغیبۃ للنعماني ص : ۱۶۹۔ نقلاً عن احسان إلہی ظہیر الشیعۃ والتشیع ص ۲۷۱۔