کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 197
زیارت کو جاتے ہیں، اور انہیں باہر آنے کے لیے پکارتے ہیں۔[1] یہ مہدی جس کا رافضی دعویٰ کرتے ہیں معدوم ہے، اس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ سو وہ حسن عسکری جس کی طرف اس مہدی کو منسوب کرتے ہیں، اس کا انتقال ہوا تو اس نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہیں چھوڑی۔ اس کی وراثت اس کی ماں اور اس کے بھائی جعفر میں تقسیم ہوئی۔ جیسا کہ ہم ان لوگوں پر رد کرتے ہوئے اس کو وضاحت کے ساتھ بیان کریں گے۔ رافضہ کے ہاں مہدی منتظرکا یہ عقیدہ کئی ایسی خرافات اور کہانیوں کو لے کر آیا جن کی کوئی صاحب عقل تصدیق ہی نہیں کرسکتا۔ جن کی ابتدا ان کی پیدائش کے ایک اچھنبے قصہ سے ہوتی ہے۔ پھر ان کا اس غار میں داخل ہونا، اور یہ اتنی لمبی مدت غار میں رہنا۔ پھر ان کے خروج کے قصہ کے ساتھ بھی کئی ایک ایسی خرافات منسلک کردی گئی ہیں جن کی کوئی بچہ بھی تصدیق نہیں کرسکتا۔ اب میں کچھ وہ کہانیاں ذکر کروں گا جو ان کی کتابوں میں آئی ہیں ؛ اور عقیدۂ مہدی؛ اور اس کی صفات، خروج کی کیفیت ؛اور جو کچھ اس کے زمانے میں ہوگا؛ کے گرد گھومتی ہیں۔ ان روایات کو نقل کرنے کے لیے میں نے ان کی سب سے ثقہ کتابوں پراعتماد کیا ہے۔ مہدی اولاد حسین میں سے : رافضہ اس بات کااعتقاد رکھتے ہیں کہ مہدی صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہی ہوگا۔ یہ بھی اس عقیدہ کا حصہ ہے کہ ائمہ صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہی ہو سکتے ہیں۔ جب امام مہدی کو ان کے ہاں بارہواں امام سمجھا جاتا ہے، تو وہ بھی اسی عموم میں داخل ہوئے۔ اس بات کی تاکید اور تائید کے لیے میں ان کی کتابوں سے بعض روایات نقل کروں گا، جن میں اس بات کی صراحت ہے کہ امام صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہی ہو سکتے ہیں۔ شیخ الطائفہ، طوسی نے زید بن علی علیہ السلام سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے : ’’ یہ منتظر حسین بن علی کی اولاد میں سے ہے اور حسین بن علی ہی کی نسل سے ہے، اور ان کے بعد ہی آیا ہے۔‘‘[2] حضرت امیر المومنین سے روایت میں آیاہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے حسین کو دیکھا تو فرمایا : ’’ بے شک میرا یہ بیٹا سردار ہوگا، جیسے اللہ نے اس کا نام سردار رکھا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کی صلب [1] ظفر الاسلام خان : التلمود ‘ تاریخہ وتعالیمہ ص ۶۰۔ [2] سفر اشعیا اصحاح ۲۱ ‘ فقرہ ۲-۳۔ [3] دیکھیں : المفید : الإرشاد ص ۳۶۳۔ الأربلی : کشف الغمۃ ۲/ ۴۳۷۔ [4] یہ شہر بغداد اور تکریت کے درمیان دریائے دجلہ کے مشرقی کنارے پر تھا ؛ جو بعد میں ویران ہوگیا۔ ۲۲۱ ہجری میں معتصم نے اس کی دوبارہ تعمیر کروائی۔ معجم البلدان ۳/ ۱۷۳۔ [5] دیکھیں : المفید : الإرشاد ص ۳۴۶۔ الأربلی : کشف الغمۃ ۲/۴۴۶۔