کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 181
چوتھی بحث :… آل داؤد میں بادشاہی کے محدودکرنے میں یہودیوں پر اورامامت کے اولاد حسین رضی اللہ عنہ میں محدود کرنے پر رافضیوں پر رد ّ یہودیوں اور رافضیوں کے ملک اور امامت کے محدود ہونے کا دعویٰ باطل ہونے پر کسی ایک دلائل ہیں۔ ان میں سے ؛ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ أَنَّ الْأَرْضَ یَرِثُہَا عِبَادِیَ الصَّالِحُوْنَ﴾ (الانبیاء: ۱۰۵) ’’ اور ہم نے نصیحت (کی کتاب یعنی تورات) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا کہ میرے نیکوکار بندے ملک کے وارث ہوں گے۔‘‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے زمین وراثت میں دینے کے لیے ’’ صلاح ‘‘ یعنی نیک و کاری کو شرط قرار دیا ہے۔ اسے کسی طائفہ یا گروہ و جنس میں منحصر نہیں کیا ؛ جیسا کہ یہودی اور رافضی کہتے ہیں۔ سو یہ آیت یہودیوں کا دعویٰ باطل ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ جو یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ شاہی قیامت تک آل ِ داؤد میں ہی رہے گی؛ بھلے وہ نافرمان ہی کیوں نہ ہوں۔ اور رافضیوں پر بھی اس آیت میں رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ امامت کسی بھی صورت میں آل ِ حسین رضی اللہ عنہ سے باہر نہیں جائے گی۔ ان کے دعویٰ کے باطل ہونے پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے، فرمان ِالٰہی ہے: ﴿وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاہِیْمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَأَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ قَالَ لَا یَنَالُ عَہْدِیْ الظَّالِمِیْنَ﴾ (البقرہ:۱۲۴) ’’ اور جب اللہ نے چند باتوں میں ابراہیم کی آزمائش کی تو وہ ان میں پورے اترے تو اللہ تعالیٰ نے کہا کہ میں تمہیں لوگوں کا پیشوا بناؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ (اے اللہ) میری اولاد میں سے بھی (پیشوا بنانا؛ تو اللہ تعالیٰ نے) فرمایا کہ ہمارا اقرار ظالموں کے لئے نہیں ہوا کرتا۔‘‘ یہ اللہ تعالیٰ کے خلیل اللہ سے مانگتے ہیں کہ امامت ان کی اولاد میں ہو،اور اللہ تعالیٰ کی طر ف سے جواب آتا ہے : ﴿لَا یَنَالُ عَہْدِیْ الظَّالِمِیْنَ﴾ ’’ ہمارا اقرار ظالموں کے لئے نہیں ہوا کرتا۔ ‘‘ [1] رواہ أبو داؤد ‘ في کتاب اللباس؛ باب: لبس الشہرۃ ‘ ح: ۳۵۳۰۔ وأحمد في مسندہ ۲/ ۵۰۔ قال شیخ الإسلام ابن تیمیۃ رحمہ اللّٰه إسنادہ جید۔ إقتضاء الصراط المستقیم ص ۸۲۔و صححہ الألباني في صحیح الجامع الصغیر ۶۱۴۹۔