کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 176
’’پیغمبر مومنوں پر اُن کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور پیغمبر کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں اور رشتہ دار آپس میں کتاب اللہ کی رُو سے مسلمانوں اور مہاجروں سے ایک دوسرے (کے ترکے) کے زیادہ حقدار ہیں۔ ‘‘ یہ آیت کس بارے میں نازل ہوئی ؟ فرمایا: امارت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور یہ آیت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد ان کی اولا د میں جاری وساری رہی۔ سو ہم اس معاملہ کے مومنین ِ مہاجرین و انصار سے زیادہ حق دار ہیں۔ میں نے کہا : کیا جعفر کی اولاد کا بھی اس میں کوئی حصہ ہے ؟ فرمایا : نہیں۔ میں نے پوچھا : کیا عباس کی اولاد کا اس میں کوئی حصہ ہے ؟ فرمایا : ’’ نہیں۔ ‘‘ پھر کہتا ہے کہ :’’ میں نے ان پر بنی عبد المطلب کی تمام شاخیں گنی۔ ان میں سے ہر ایک کے بارے میں کہا : نہیں۔ مگر میں حسن علیہ السلام کی اولاد کو بھول گیا۔ پھر اس کے بعد میں ان کے پاس گیا اور کہا : کیا حسن علیہ السلام کی اولاد کا اس میں کوئی حصہ ہے ؟ تو انہوں نے کہا: ’’ نہیں۔ ‘‘ پھرکہا : اے عبد الرحیم ! اللہ کی قسم !کسی بھی محمدی کا ہمارے علاوہ اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ ‘‘[1] یہ دونوں روایتیں ان کے اس عقیدہ پر دلالت کرتی ہیں کہ امامت علی بن حسین کے بعد ان کی اولاد میں محدود ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور میں نہ جائے گی۔ اس حوالے سے ان کے پاس بہت سی روایات ہیں، جن کو ہم اختصار کے لیے ترک کرتے ہیں۔ رہے ان کے علماء کے اقوال، وہ بھی اسی چیز پر دلالت کرتے ہیں جس پر ان کی روایات دلالت کرتی ہیں۔ ان کے شیخ ’’ مفید ‘‘نے اس پر ان کے علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ وہ کہتا ہے: ’’ امامیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ امامت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خاص بنی ہاشم میں ہی ہوگی۔ پھر ان کے بعد علی، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم اجمعین میں، پھر ان کے بعد حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ؛ حسن رضی اللہ عنہ کی اولاد کو چھوڑ کر ؛ یہاں تک کہ آخری زمانہ آگیا۔ جبکہ معتزلہ اور دوسرے فرقے جن کا ہم نے ذکر کیا ہے، ان کااجماع اس کے خلاف ہے۔ ‘‘[2] رافضہ امامت کو حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی اولادکو چھوڑ کرحضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں ماننے میں یہودی کاہنوں سے مشابہت رکھتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ : ’’ کہانت صرف ہارون علیہ السلام کی اولاد میں ہوگی؛ اوروہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اولاد کو [1] عقائد الإمامیۃ ص ۱۳۔ [2] الصدوق ص ۲۰۷۔ والمجلسي في بحار الأنوار ۲۵/ ۲۵۸۔