کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 174
أُمَمًا ﴾ (الاعراف ۱۵۹-۱۶۰) ’’ اور قومِ موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اُسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔ اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنا دیا۔‘‘ سو اللہ تعالیٰ نے حق کی طرف رہنمائی کرنے کے لیے اسباط ِ [ بنی اسرائیل ] کو اس عدد میں محدود کیا، اور ائمہ کی بھی یہی تعداد مقرر کی۔ ‘‘[1] محترم قارئین ! ان لوگوں کو دیکھیے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ کر کیسے سابقہ شریعتوں کے باطل امور پر قیاس کرتے ہیں۔ جویاتو اس شریعت سے منسوخ ہوچکے ہیں یا وہ اصل میں ہی باطل ہیں [ یعنی ان شریعتوں کے مبتدعین نے انہیں گھڑ لیا ہے، ورنہ ان کی کوئی اصل نہیں ہے ] پھر وہ اپنے دین کی بنیاد انہی قیاسات پر کھڑی کرتے ہیں۔ یہ صرف ان کی یہود سے شدید محبت ؛ اور ملت ِ اسلامیہ سے شدید بغض کی وجہ سے ہے۔ رہا ان کا یہ عقیدہ کہ امامت نصوص سے ثابت ہے ؛ سو وہ اپنی ان روایات کو ظلم اور جھوٹ کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اہل بیت اطہار کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ صدوق نے جابر بن زید الجعفی سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں : ’’میں نے جابر بن عبد اللہ الانصاری کویہ کہتے ہوئے سنا : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی : ﴿یٰٓـاَ یُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا أَطِیْعُوا اللّٰہَ وَأَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَأُوْلِی الْأَمْرِ مِنْکُمْ ﴾ ’’مومنو! اللہ اور اُس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب ِ حکومت ہیں اُن کی بھی۔‘‘ میں نے کہا : یارسول اللہ! ہم نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا ؛ بتائیے کہ اولی الامر (صاحب ِ حکومت ) کون ہیں ؟جن کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ آپ کی اطاعت کے ساتھ ملا کر بیان کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’اے جابر ! وہ میرے بعد کے میرے خلفاء ہیں۔ اور میرے بعد کے ائمہ ہدی (ہدایت کی طرف رہنمائی کرنے والے ) ہیں۔ ان میں سب سے پہلے علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ ہیں ؛ اور پھر حسن اور پھر حسین ( رضی اللہ عنہما ) پھر علی بن الحسین ؛ پھر محمد بن علی جو کہ تورات میں باقر کے نام سے معروف ہیں۔اے جابر ! تم اسے پاؤ گے ؛ اور جب ان سے تمہاری ملاقات ہو تو انہیں میری طرف سے سلام پہنچانا۔ پھراس کے بعد صادق، جعفر بن محمد ہوگا؛ اور پھر موسیٰ بن جعفر ؛ پھر علی بن موسی، پھر محمد بن علی پھر علی بن محمد ؛ پھر حسن بن علی ؛ یہی وہ انسان ہے جس کے ہاتھوں پر اللہ تعالیٰ زمین کے مشرق و مغرب کو فتح کریں گے۔ ‘‘[2] [1] کشف الغمۃ : ۲/ ۵۰۷۔ [2] الخصال :ص ۴۷۸۔ [3] الخصال : ص ۴۶۵-۴۶۶۔