کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 163
’’ابو بکر کو خلیفہ بناتے۔ ‘‘ان سے کہا گیا، پھر ابو بکر کے بعد کس کو بناتے ؟ فرمانے لگیں : عمر کو۔ کہا گیا : جناب عمر رضی اللہ عنہ کے بعد کس کو بناتے ؟فرمایا : ’’ ابو عبیدہ عامر بن الجراح کو۔ ‘‘ آپ نے اتنا ہی بیان کیا۔[1] محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں : ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اور کسی معاملہ میں آپ سے بات کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ اس عورت نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا آپ دیکھتے ہیں کہ اگر میں آئندہ سال آؤں اور آپ کو نہ پاؤں تو ؟ گویا کہ وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی طرف اشارہ کررہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر تم مجھے نہ پاؤ تو ابو بکر کے پاس آنا۔ ‘‘[2] مذکورہ بالا روایات، اور ان کے علاوہ دوسری روایات جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے، اس بات کی دلیل ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنانے کی وصیت نہیں کی۔ اور نہ ہی کسی دوسرے صحابی کے لیے کوئی وصیت کی ہے۔ اور اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے لیے وصیت کرنے والے ہوتے تو ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لیے وصیت کرتے، جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول بھی اس پر دلالت کرتا ہے، جب آپ سے پوچھا گیا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بعد کسی کو خلیفہ بناتے، تو وہ کون ہوتا ؟ تو (اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے فرمایا: ’’ابو بکر کو خلیفہ بناتے۔ ‘‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین جانتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے کوئی وصیت نہیں کی۔ بلکہ بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ سابقہ روایات حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ ہونے پر نص ہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے کسی ایک نے بھی کبھی یہ نہیں کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ کسی کے بارے میں واضح اور صراحت کے ساتھ یہ کہا ہو (کہ میرے بعد خلیفہ ہوگا) نہ ہی علی رضی اللہ عنہ اور نہ ہی عباس رضی اللہ عنہ اور نہ ہی ان کے علاوہ کسی کے باے میں۔ اور نہ ہی اس بارے میں کبھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اور نہ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے یہ دعویٰ کیا۔ اور نہ ہی ان کے محبین میں سے کسی ایک نے ان کے لیے خلافت کا دعویٰ کیا۔ اور نہ ہی اس مسئلہ پر کوئی نص موجود ہے۔ بلکہ صحابہ میں سے کسی نے بھی کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ قریش میں کوئی ابو بکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ اس کا حق دار ہے؛ اور نہ ہی بنی ہاشم میں سے اور نہ ہی غیر بنی ہاشم میں سے۔ یہ ساری باتیں احادیث پر [1] صحیح البخاری کتاب الأحکام ‘ باب : الاستخلاف ‘ح: ۷۲۱۷۔ [2] صحیح مسلم ‘ کتاب الفضائل ‘ باب : من فضائل ابی بکر الصدیق ح: ۱۱۔