کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 160
اول:…جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر پھیل گئی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ہوش اڑ گئے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے متعلق ان کا آپس میں بہت سخت اختلاف ہوگیا۔ ان میں سے بعض کہتے تھے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا ہے۔ اور بعض کہتے تھے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی موت نہیں آسکتی۔ ان کا آپس میں یہ اختلاف بہت ہی بڑھ گیا یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے : ’’ اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت نہیں آئی ؛ بلکہ آپ اپنے رب کے پاس ایسے ہی گئے ہیں، جیسے حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام اپنے رب کے پاس گئے تھے۔ اللہ کی قسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی واپس آئیں گے جیسے موسیٰ بن عمران واپس آئے تھے۔ اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ دیں گے جو یہ بات کہتے ہیں کہ :’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوگیا ہے۔ ‘‘[1] ٭ ایسے موقع پر جناب سیدنا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ (بڑی عظمت اور ہمت والی ہستی ) تشریف لاتے ہیں ؛ اور انتہائی ثابت قدمی کے ساتھ لوگوں میں اعلان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انتقال فرما چکے ہیں۔ اور انہیں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان یاد دلایا: ﴿وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰی عَقِبَیْہِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰہَ شَیْئًا وَّسَیَجْزِی اللّٰہُ الشّٰکِرِیْنَ﴾ (آل عمران:۱۴۴) ’’اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تو صرف (اللہ کے) پیغمبر ہیں اُن سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ فوت ہو جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ (یعنی مرتد ہو جاؤ) گے؟ اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں کر سکے گا اور اللہ تعالیٰ شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔ ‘‘ جیسے ہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جن کے غصہ کا یہ عالم تھا، حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت سنی تو اپنے موقف سے فوراً رجوع کر لیا۔ اور دوسرے صحابہ نے بھی اس نص کی طرف رجوع کرلیا۔ باوجود اس کے کہ یہ حادثہ ان کے دلوں میں ایک بہت بڑا حادثہ تھا۔ مگر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو مانتے ہوئے نصوص کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔ دوم:… جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے، اور خلیفہ کے تعین کرنے میں ہر ایک کے نقطۂ نظر میں اختلاف ہونے لگا، یہاں تک کہ انصار نے مہاجرین سے کہا : ’’ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم میں سے۔‘‘ اور حباب بن منذر نے اپنی تلوار کھینچ لی ؛ اور کہا : ’’ میں وہ شخص ہوں جسے ایسے احوال سے نمٹنے کا تجربہ ہے، اور ایسے مواقع پر میری رائے سے مشکلات حل کی جاتی ہیں، کون ہے جو میرا سامنا کرسکے ؟ قیس بن سعد اپنے باپ کی حمایت میں کھڑے ہوگئے، حتی کہ عمربن خطاب رضی اللہ عنہ نے بھی اس معاملہ میں جو کہا، سو کہا۔‘‘[2] [1] کتاب الإمامۃ والرد علی الرافضۃ ‘ لأبی نعیم أصفہانی ‘ تحقیق : ناصر الفقہی ص(۲۳۷-۲۳۸)۔ [2] غیاث الأمم فی اثبات الظلم ص (۲۵-۲۷)۔