کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 156
سر خیال کرتا ہوں۔‘‘ حضر ت علی رضی اللہ عنہ کے وصی نہ ہونے پر کئی دلائل ہیں : اول : …صحیح احادیث سے رد: صحیح اور صریح احادیث اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی نہیں ہیں۔ بخاری اورمسلم میں ایک حدیث ہے جسے عبیدا للہ بن عبد اللہ بن عتبہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے روایت کیاہے، وہ کہتے ہیں : ’’جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں کچھ لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمایا: آؤ ایک کتاب لاؤ، میں تمہارے لیے لکھ دوں جس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔ تو بعض افراد نے کہاکہ :نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے۔اورتمہارے پاس قرآن موجود ہے ؛ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ تواہل بیت آپس میں اختلاف کرنے لگے اوران کا آپس میں جھگڑا ہوگیا۔ ان میں سے کوئی کہتا :لے آؤ تاکہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لکھ دیں ؛ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہوگے۔ ان میں سے کوئی اس کے علاوہ کچھ اور کہتا۔ جب ان کی آپس میں چپقلش زیادہ ہو گئی ؛اوراختلاف بڑھ گیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ کھڑے ہوجاؤ۔ ‘‘ عبد اللہ کہتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمایا کرتے تھے : ’’مصیبت ہے پور ی طرح مصیبت ا س انسان کے لیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اور یہ کتاب (وصیت) لکھنے کے حائل ہوا، اپنے اختلاف کی وجہ سے اور شور شرابہ کرنے کی وجہ سے۔ ‘‘[1] یہ صریح روایت اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے وقت تک کسی کے لیے وصیت نہیں کی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما مذکورہ جملہ نہ کہتے۔ اس کی تائید میں صحیحین میں طلحہ بن مصرف رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ہے، وہ کہتے ہیں : ’’میں نے عبد اللہ بن ابی اوفی سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی ؟ انہوں نے کہا : ’’نہیں ‘‘ میں نے کہا: ’’ لوگوں پر وصیت کیسے لازم کی گئی، یا انہیں وصیت کا حکم دیا گیا؟ فرمایا: ’’ کتاب اللہ سے وصیت کی گئی۔ ‘‘[2] [1] الأنوار النعمانیۃ ۲/۲۳۴۔