کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 155
اور نعمت اللہ الجزائری کہتا ہے : ’’ عبد اللہ بن سبا نے علی علیہ السلام سے کہا :’’ آپ ہی معبود برحق ہیں۔ ‘‘ تو حضرت علی علیہ السلام نے اسے مدائن کی طرف ملک بدر کردیا اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ یہودی تھا۔ اس نے اسلام قبول کیا۔ وہ اپنی یہودیت کی زندگی میں یوشع بن نون علیہ السلام کے لیے ایسے ہی کہا کرتا تھاجیسے اس نے علی علیہ السلام کے بارے میں کہا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’ یہ پہلاانسان ہے جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی امامت کے واجب ہونے کا قول ایجاد کیا ؛ اور اسی سے غالیوں کی مختلف اصناف پھوٹیں۔ ‘‘[1] محققین اہل سنت والجماعت کے اقوال اور کبار علماء رافضہ کے اعترافات نقل کرنے کے بعد کہ ’’عبد اللہ بن سبا نے ہی اسلام میں سب سے پہلے وصیت کا قول ایجاد کیا ؛ اور پھر خودابن سبا کا اعتراف کہ اس نے یہ عقیدہ تورات سے اخذ کیا ہے، اور اس نے تورات میں پایا ہے کہ ایک ہزار نبی تھے اوران میں سے ہر نبی کے لیے وصی ہوا کرتا تھا، اور اس کے ساتھ ہی وہ سابقہ وجوہات جو ہم نے اس عقیدہ میں رافضیوں کی یہودیوں سے مشابہت میں ذکر کی ہیں ؛ یہ تمام باتیں اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ یہ عقیدۂ وصیت خالصتاً یہودی عقیدہ ہے۔ جو عبد اللہ بن سباء یہودی کے ذریعہ رافضیوں میں منتقل ہواہے۔ چوتھی بحث :… رافضیوں کے عقیدۂ وصیت پر ردّ رافضیوں کا حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی شان میں مبالغہ کرنا، اور ان کی بابت اتنا غلو کرنا اور یہ کہنا کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ سر گوشیاں اور ہم کلام ہوئے، اور یہ کہ آپ کی قدر و منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی منزلت کے برابرہے۔اوراسی طرح ملائکہ کا آپ کی تائید کرنا ؛سورج کا آپ کے لیے لوٹایا جانا ؛ یہ تمام فاسد عقائد ان کے اس عقیدہ کے تحت پروان چڑھے ہیں جس میں وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصی سمجھتے ہیں۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ عام مسلمان اس عقیدہ کا انکار کر رہے ہیں، تو انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب میں روایات گھڑیں۔ اور آپ کی طرف ایسا ایسا جھوٹ منسوب کیا، جسے عقل تسلیم ہی نہیں کرتی۔ اسی طرح انہوں نے اپنے عقیدہ کی تائید نیز لوگوں کو اس بات پر قانع کرنے کے لیے کیاکہ آپ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں، اور باقی لوگوں سے خلافت کے زیادہ حقدار ہیں۔ اسی لیے رافضہ پررد کا محور و مرکز بھی یہی پہلو ہوگا؛ یعنی : اس بات کی نفی کہ : ’’ حضرت ِ علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی نہیں ہیں ؛ اور عقیدہ وصیت کاباطل ہونا ثابت کرنا؛ جس کو میں دوسرے رافضی عقائد کی نسب ناگ کا [1] الملل والنحل (۱/ ۱۷۴)۔ [2] خطط المقریزی (۲/ ۳۵۶)۔ [3] فرق الشیعۃ (۲۲)۔ [4] معرفۃ أخبار الرجال ص ۷۱۔ [5] تنقیح المقال (۲/ ۱۸۴)۔ [6] سلیمان العودۃ : عبد اللّٰه بن سبا و أثرہ فی إحداث الفتن فی صدر الإسلام ص(۶۱)۔