کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 152
پنجم : وصی کی منزلت : یہودی اور رافضی دونوں ہی وصی کو نبی کے مرتبہ پر سمجھتے ہیں۔ یہودی اسفار میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یشوع سے کہا : ’’ آج سے میں تمام بنی اسرائیل کی نظروں میں تجھے بڑا کرتا ہوں۔ تاکہ وہ جان لیں جیسے میں موسیٰ کے ساتھ تھا ایسے ہی تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘ دوسری روایت میں ہے : ’’وہ اس سے ایسے ہی ہیبت کھانے لگے جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہیبت تھی۔‘‘ اور رافضی گمان کرتے ہیں کہ ائمہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی منزلت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی منزلت کے برابر ہے۔ اوران دو نوں کا ایک ہی درجہ ہے جیسا کہ سابقہ روایات سے ظاہر ہے۔ ششم: وقوف ِ شمس و قمر پر اتفاق: یہودیوں اور رافضیوں کے اتفاقات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ یہودی کہتے ہیں کہ ’’ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو یشوع کے لیے روک لیا تھا۔‘‘ واضح رہے کہ صرف سورج کا روکا جانا حدیث میں ثابت ہے، چاند کے متعلق کوئی روایت نہیں ہے، جیسا کہ پہلے ہم بیان کرچکے ہیں۔ یہاں پر مقصود اس معاملہ میں رافضیو ں کی یہود سے مشابہت کو بیان کرنا ہے [ اس لیے اتنے پر ہی اکتفا کیا جائے گا]۔ اورایسے ہی رافضی یہ گمان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے واپس لوٹا دیاتھا۔ سو انہوں نے باقر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے اس کے دادا حسین بن علی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے، وہ جویریہ (حضرت علی ِ رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں میں سے ایک )سے ایک لمبی حدیث روایت کرتے ہیں : ’’امیر المومنین علیہ السلام ارض ِ بابل کے ایک حصہ کی طرف چلے۔ اور فرمایا: ’’اے جویریہ ! پانی لاؤ۔ میں نے پانی کا برتن آپ کی جانب بڑھایا۔ آپ نے وضو کیا، پھر فرمایا: اے جویریہ ! آذان دو۔ میں نے کہا : اے امیر المومنین ! ابھی نماز عشاء کا وقت نہیں ہوا۔ فرمایا: عصر کے لیے آذان دو۔ میں نے اپنے جی(دل)میں کہا : کیامیں عصر کے لیے آذان دوں، اور سورج غروب ہوچکا ہے۔ لیکن پھر کہا : مجھ پر بات کو ماننا واجب ہے ؛ سو میں نے آذان دے دی۔توآپ نے فرمایا: اقامت کہو۔ ابھی میں اقامت کہہ رہا تھا کہ آپ کے ہونٹ کلام کرتے ہوئے حرکت میں آگئے؛ گویاکہ پرندہ کچھ کہہ رہا ہو۔ میں اس میں سے کچھ بھی نہیں سمجھاکہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ اچانک سورج اپنی روشنی کے ساتھ پلٹ آیا۔یہاں تک کہ عصر کی جگہ پردرمیان میں رک گیا۔ پھر حضرت علی علیہ السلام کھڑے ہوگئے، اور تکبیر کہی۔ ہم نے بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوگئے تو سورج ایسے ڈھل گیا جیسے طشت میں چراغ ہو؛ اور غائب ہوگیا؛ اور ستارے آپس میں مل گئے۔ پھر آپ میری طرف متوجہ [1] الصواعق المحرقۃ في الرد علی أہل البدع والزندقۃ: ابن حجر الہیثمی ص (۹۰)۔ الأذکار : النووی (۳۲۱)۔