کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 149
حضرت علی رضی اللہ عنہ کو امام الأوصیاء بنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم براق پر سوار ہوئے، اور حضرت علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر چڑھے۔‘‘[1] ان بیوقوفوں اور احمقوں کی روایات میں سے یہ بات بھی ہم تک پہنچی ہے کہ: ان کے بعض لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق کا اختیار اپنے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تفویض کیا تھا۔ اصبغ بن نباتہ نے روایت کیا ہے، وہ کہتا ہے : ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنگ ِ جمل کے دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک نمائندہ بھیجا، اور کہا : ’’ واپس چلی جاؤ ؛ ورنہ میں ایسا کلام کروں گا جس سے تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بری ہوجاؤ گی۔ ‘‘ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ تم جاؤ، اور اس سے کہو، امیر المومنین رضی اللہ عنہ آپ کویہ پیغام دے رہے ہیں، : اس اللہ کی قسم جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اور روح کوپیدا کرنے والا ہے، اگر تم ابھی ابھی یہاں سے کوچ نہ کر گئی تو میں تجھ پر وہ بھیجوں گا جسے تم جانتی ہو۔ جب حسن رضی اللہ عنہ نے امیر المومنین کا پیغام پہنچادیا ؛ تو آپ کھڑی ہوگئیں، پھر کہنے لگیں : ’’ مجھے لے چلو؛ ان سے ایک عورت نے کہا : ’’ آپ کے پاس ابن عباس رضی اللہ عنہما آئے ؛ جو کہ بنی ہاشم کے شیخ ہیں اور انہوں نے آپ کے ساتھ گفتگو کی، اور غصہ میں واپس چلے گئے۔ مگر آپ کے پاس ایک نوجوان آیا اور آپ نے ہتھیار ڈال دیے۔ تو [حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ]فرمانے لگیں : ’’یہ نوجوان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ہے اور جو کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنا چاہے، اسے چاہیے کہ وہ اس نوجوان کودیکھے۔ یہ نوجوان میرے پاس ایسا پیغام لے کر آیا ہے جسے میں جانتی ہوں۔ (اس عورت نے )کہا : ’’میں تم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا واسطہ دے کر سوال کرتی ہوں کہ مجھے وہ پیغام بتاؤ جو یہ نوجوان لے کر آیا ہے۔ تو آپ فرمانے لگیں ’’بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اپنی عورتوں کو طلاق کا اختیار علی کے ہاتھ میں دیاہے۔ پس جس کو وہ دنیا میں طلاق دے دیں گے، اسے آخرت میں جدائی ہی نصیب ہوگی۔‘‘[2] ان لوگوں کا وصیت اور صاحب ِ وصیت کے بارے میں یہ عقیدہ ہے جیساکہ ان کی جانب سے ائمہ معصومین کی طرف منسوب روایات میں آیا ہے۔ اور جو ان کی اہم کتب ( مصادر ) میں ثابت شدہ ہے۔ یہ اس بات کا عقیدہ رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصی ہیں۔ اورحضرت علی رضی اللہ عنہ کواس منصب کے لیے سات آسمانوں کے اوپر سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے چنا گیا ہے۔ اور یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سو بیس بار معراج نصیب ہوئی ؛ اور ہر بار اللہ تعالیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ائمہ کی ولایت کی وصیت [1] محمد باقر المجلسی : بحار الأنوار : (۲۶ / ۵۵)۔ [2] کمال الدین و تمام النعمۃ (ص: ۲۳ )۔