کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 144
رافضیوں کے ہاں امامت کی قدرو منزلت اور دین میں اس کا جس قدر بڑااورعظیم مقام ہے؛ اس پر وہ تمام روایات دلالت کرتی ہیں جو ان کے قدیم اور اہم ترین مصادرمیں ذکر کی گئی ہیں۔ رہی نئی کتابیں ؛ تو محمد رضا المظفر نے اپنے عقائد کی صراحت اپنی کتاب: ’’عقائد الامامیۃ ‘‘ میں کی ہے۔ وہ کہتا ہے : ’’ہم اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ امامت دین کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے۔ جس پراعتقاد رکھے بغیر ایمان پورا نہیں ہوسکتا۔ اور نہ ہی اس میں آباء ؛ اہل خانہ اور تربیت کرنے والوں کی تقلید جائز ہے ؛ خواہ وہ جتنے بھی بڑے ہوں۔ بلکہ اس میں غوروفکر کرنا بھی ایسے ہی واجب ہے جیسے توحید اور نبوت میں۔‘‘[1] ۱۔ وصی اور و صیت میں عقائد کا خلاصہ : وصی اوروصیت کے بارے میں ان کے عقائد کا خلاصہ مندرجہ ذیل نقاط میں پیش کیا جاسکتا ہے : ۱۔ ان کا یہ اعتقاد کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وصی حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ( اس منصب کے لیے) چن لیا تھا۔اس لیے: رافضی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد وصی حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ہیں۔اور یہ کہ حضرت علی کو اس منصب کے لیے چننا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے نہیں تھا، بلکہ یہ اختیار اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا کہ اس نے انہیں ( اس منصب کے لیے) چن لیا تھا۔ بصائر درجات میں ہے ؛ ابوعبداللہ علیہ السلام سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں : ’’ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک سو بیس بار آسمان کی معراج ہوئی۔ ان میں سے کوئی بار بھی ایسی نہ تھی جس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولایت اور ان کے بعد ائمہ کی ولایت کے بارے میں دوسرے فرائض سے بڑھ کر وصیت نہ کی ہو۔‘‘[2] صدوق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے اور علی بن ابی طالب کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا۔ اور سات آسمانوں کے اوپر سے میری بیٹی کی ان سے شادی کی۔ اور اس پر اپنے ملائکہ مقربین کو گواہ بنایا اور انہیں میرے لیے وصی اور خلیفہ بنایا؛ سو علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔ اس سے محبت کرنے والا میرا محب ہے، اور اس سے بغض رکھنے والا مجھ سے بغض رکھنے والا ہے۔ اور بے شک ملائکہ ان کی محبت کے وسیلہ سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتے ہیں۔ ‘‘[3] [1] اصول الکافی:للکلینی (۲/۱۸)۔ [2] سابق مصدر [3] ثواب الأعمال و عقاب الأعمال (ص۲۴۳)۔ [4] بصائر الدرجات ص ۵۰۸۔ دلائل الامامۃص ۲۳۰۔ [5] بصائر الدرجات ص ۵۰۸۔