کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 141
بنی اسرائیل میں اس زمین کی تقسیم کا کام بھی انہیں ہی سونپا جائے گا۔سفر یشوع میں اللہ تعالیٰ کاحضرت یشوع علیہ السلام سے خطاب نقل کیا گیا ہے : ’’ اب کھڑے ہوجاؤ اور اردن کو عبور کرو۔ تم اور یہ تمام قوم اس طرف (جاؤ ) جو میں انہیں دینے والا ہوں (یعنی بنی اسرائیل کو) ہر وہ جگہ جسے تمہارے پاؤں کے پیٹ چھوئیں گے وہ میں تمہیں دیتا ہوں۔ جیسے میں نے موسیٰ سے بریہ اور لبنان میں بات کی ؛ یہ بڑی نہر نہرِ فرات تک اور حثیون کی ساری زمین، اور مغرب کی طر ف بڑے سمندر تک تمہارا بیج ہوگا۔تمہارے سامنے کوئی انسان کھڑا نہیں ہوسکے گام تمہاری زندگی کے تمام دن میں تمہارے ساتھ ایسے ہی رہوں گا جیسے موسیٰ کے ساتھ تھا۔ نہ ہی تیرا ساتھ چھوڑوں گا، اور نہ ہی تجھ سے غفلت برتوں گا؛ اپنی کمر کس لیجیے، اور بہادری دکھائیے۔ اس لیے کہ آپ اس قوم میں وہ زمین تقسیم کریں گے جس کا میں نے ان کے آباء سے وعدہ کر رکھا ہے کہ میں انہیں دوں گا۔‘‘[1] سفر یشوع میں یہ بھی آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یشوع کو بنی اسرائیل کے دلوں میں بہت بڑی ہیبت عطا کی تھی، جس طرح کی ہیبت حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کی تھی۔ (نص ِ عبارت یوں ہے ’’رب نے یشوع سے کہا : ’’ آج سے میں تمام بنی اسرائیل کی نظروں میں تجھے بڑا کرتا ہوں تاکہ وہ جان لیں جیسے میں موسیٰ کے ساتھ تھا ایسے ہی تمہارے ساتھ ہوں۔‘‘[ دوسری نص میں ہے : اس دن سے اللہ تعالیٰ نے یشوع کو بنی اسرائیل کی نظروں میں بڑا کردیا، اور وہ اس سے ایسے ہی خوف محسوس کرنے لگے، جس طرح موسیٰ علیہ السلام کی پوری زندگی کیا کرتے تھے۔‘‘[2] یہودی جو بڑی بڑی کرامات حضرت یشوع علیہ السلام کی طرف منسوب کرتے ہیں، ان میں سے ایک کرامت جو سفر یشوع میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یشوع کے طلب کرنے پر سورج اور چاند کی حرکت کو روک لیاتھا۔ (نص ِ عبارت یوں ہے ): ’’جس وقت اللہ تعالیٰ نے اموریوں سے بنی اسرائیل کے سامنے ہتھیار ڈلوا دیے، یشوع نے رب سے کلام کیا ؛ اور بنی اسرائیل کی آنکھوں کے سامنے کہا : ’’ اے سورج ! جبعون[3] (شہر) پر ٹھہر جا؛ اور اے چاند ! وادی أیلون[4]پر رک جا۔ بس سورج ٹھہر گیا، اور [1] التثینہ ‘ اصحاح ۳۱ ‘ فقرات ( ۱۴- ۲۳)۔ [2] اصحاح اول فقرہ (۱)۔