کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 134
ہمیں خبر دی ہے۔ اور اسے اپنی کتاب میں لکھ لیا ہے اور ساڑھے چودہ سو سال سے یہ خبر بالکل واضح صاف، صریح اور کھلی ہوئی روشن ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک یہودی ذلت اور رسوائی کا سامنا کررہے ہیں۔ نہ ہی ان کا کوئی سہار اہے اور نہ ہی ان کا کوئی ملک ہے۔ ایسے ہی شیعہ نے مختلف زمانوں میں جبرا ً اپنا نظام قائم کرنے کی کوشش کی؛ اور اپنا غلبہ اور حکومت قائم کرنے کے لیے اٹھے ؛ اور اہل ِ حکومت سے حکومت چھیننا چاہی۔ مختلف اوقات میں اس کا بہت تھوڑا صلہ بھی پایا کہ ایک مختصر وقت کے لیے لوگ ان کی طاقت کے سامنے سر نگوں ہوئے، اور کچھ دیر کے لیے ان کا حکم چلتا رہا ؛ مگر پھر یہ سلسلہ ختم ہوگیا لیکن یہ لوگ ہر دور میں ذلیل و رسوا ہی رہے ہیں۔ یہاں تک کہ ان کی اپنی حکومتوں کے دور میں بھی معاملہ ایسے ہی رہا۔ ۴۵۔ یہ کہ یہود کلمات (تورات ) کو اپنی جگہ سے بدل دیتے ہیں ؛ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان کے متعلق خبری دی ہے؛ فرمایا : ﴿مِنَ الَّذِیْنَ ہَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْکَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِہِ ﴾ (النساء: ۴۶) ’’اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے، وہ کلمات کو اپنی جگہ سے بدل دیتے ہیں۔‘‘ ایسے ہی رافضہ بھی قرآن میں تحریف کرتے ہیں۔ ۴۶۔ یہودی اور رافضی دونوں ہی محبت اور بغض رکھنے میں عدل سے کام نہیں لیتے۔ اورنہ ہی دوستی اور دشمنی میں میانہ روی اختیار کرتے ہیں بلکہ دونوں فرقے ان امور میں ظالم اور حد سے گزرنے والے ہیں۔ ۴۷۔ یہودی مسلمانوں کے مال اور خون کو حلال سمجھتے ہیں ؛ اور ان کا مال ہتھیانے کے لیے ہر قسم کے وسائل کے استعمال کو جائز سمجھتے ہیں ؛ جیسے کہ دھوکا بازی؛ سود ؛ فحاشی ؛ اغواکاری ؛ ملاوٹ اور دیگر کوئی بھی ذریعہ جو اس باب میں کار گر ثابت ہوسکتا ہو۔ ایسے ہی رافضی بھی تمام اہل ِ سنت کے اموال اور خون کو حلال سمجھتے ہیں ؛ اور اس کے لیے تمام وسائل جیسے کہ: دھوکا بازی ؛ اغواء کاری، ملاوٹ ؛ حیلہ بازی ؛ غدر اور ان کے علاوہ جو بھی ذریعہ کار گر ثابت ہوسکے؛ اختیار کرتے ہیں۔ ۴۸۔ ایک مشابہت یہ بھی ہے کہ یہودی قبروں کے بڑے عاشق اور دلدادہ ہیں۔ اور ان کے لیے نثار ہوئے جاتے ہیں ؛ اور ان میں غلو کرتے ہوئے فتنہ برپا کرنے کے لیے انہیں مساجد بنا لیتے ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت کرے انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنالیا۔ ‘‘[1] ایسے ہی رافضی بھی قبروں اور درگاہوں میں یہود سے بڑھ کر غلو کرتے ہیں، اور انہیں عبادت گاہیں اور مساجد بنا لیتے ہیں۔ اور ان قبروں سے ایسے ہی عشق رکھتے ہیں جیسے یہود؛ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر۔ اور رافضی ان درگاہوں کی [1] الصراع بین الاسلام و الوثینۃ ۱/۴۹۲۔