کتاب: تحفہ شیعیت - صفحہ 120
رزردشتی[1] شامل ہیں۔ ان لوگوں نے اس کی طرف دعوت اس لیے دی کہ یہ سب اسلام دشمنی پر؛ اور اس کے خلاف حسدو حقد میں ایک تھے۔سب نے اہل بیت سے محبت کے پردہ کی آڑ میں اپنے عزائم کو پورا کیا۔‘‘ نیز وہ کہتے ہیں : ’’ حق بات تو یہ ہے کہ شیعیت ہر اس انسان کے لیے پناہ گاہ تھی جو اسلام کے لبادہ میں اسلام سے دشمنی اور بغض رکھتا ہو؛ یا یہودیت، عیسائیت، زردشتیت اور ہندومت میں سے اپنے باپ دادا کی تعلیمات کو اسلام میں داخل کرنا چاہتا ہو۔اور جو کوئی اپنے علاقوں میں اسلامی مملکت کے خلاف بغاوت کھڑی کرنا چاہتا ہو۔ یہ سارے لوگ اہلِ بیت کی محبت کو آڑ کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اس کے پیچھے اپنی جو بھی خواہشات ہوتیں، ان کو رائج کرتے اور ہوا دیتے۔ شیعہ مذہب میں یہودیت کا ظہور رجعت کے قول میں ہوا۔ اور شیعہ نے اس بات کا بھی دعویٰ کیا کہ آگ ان پر حرام ہے، سوائے بہت ہی تھوڑی کے۔ اور یہودیوں نے بھی یہی کہا تھا : ’’ ہمیں آگ ہر گزنہیں چھوئے گی مگر گنتی کے چند دن۔‘‘[2] جب کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر رحمہ اللہ نے ان لوگوں کی کتابوں پر اپنی لمبی تحقیق کے بعد؛ جس کی وجہ سے رافضہ اور ان کے متعلق ان کے تجربہ میں اضافہ ہوا ؛ اس بات کی تاکیدکرتے ہیں کہ ان لوگوں کا عقیدہ عبد اللہ بن سبا کے واسطہ سے یہودی اساسیات پر قائم ہے۔ فرماتے ہیں : ’’رہا امامیہ کا مذہب اور اثنا عشری عقیدہ، یہ تو صرف ان بنیادوں پر قائم ہے جن کی بنیادجرائم پیشہ یہودیوں نے عبد اللہ بن سباء صنعانی یمنی (جو کہ ابن سوداء کے نام سے مشہور ہے) کے ذریعے رکھی تھی۔‘‘[3] اہل ِ سنت و الجماعت کی کتابوں میں موجود ان منقولات سے یہ بات یقینی ہوگئی ہے کہ : ’’رافضیت کی بنیادعبد اللہ بن سبا یہودی نے رکھی تھی۔ اور یہ کہ رافضیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس بات کا بڑے شیعہ علماء اور مؤرخین نے اعتراف کیا ہے۔ الکشی ایک مشہور شیعہ مؤرخ اور حالات ِ زندگی کے ماہر ہیں، جس کا شمار چوتھی صدی کے علماء میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے مذہب کے بعض علماء سے یہ نص نقل کرتے ہوئے کہتا ہے:’’ بعض اہل علم نے اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ : عبد اللہ بن سبا یہودی تھا؛ اس نے اسلام کا اظہار کیا، اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کا دعویٰ کرنے لگا۔ اور جب وہ یہودی تھا تویوشع بن نون کے متعلق غلو کرتے ہوئے کہا کرتا تھا:’’ وہ موسیٰ علیہ السلام کے وصی ہیں۔‘‘ اور اسلام میں رسول [1] شرح العقیدۃ الطحاویۃ (ص ۵۷۸)۔ [2] الصراع بین الوثنیۃ و الإسلام ۱/ ۱۱۔